اسکرین کا بڑھتا استعمال
جدید دور میں ٹیکنالوجی، اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور سوشل میڈیا نے زندگی کو بے حد آسان بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نیا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے جسے ماہرین ڈیجیٹل تھکاوٹ یا ڈیجیٹل فٹیگ کہتے ہیں۔ یہ مسئلہ خاص طور پر نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے جو تعلیم، کام اور تفریح کے لیے طویل وقت تک اسکرینز کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔
ڈیجیٹل تھکاوٹ کیا ہے؟
ڈیجیٹل تھکاوٹ ایک ایسی حالت ہے جس میں مسلسل اسکرین دیکھنے کی وجہ سے جسم اور دماغ دونوں تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس میں صرف جسمانی تھکن ہی نہیں بلکہ ذہنی دباؤ اور جذباتی بے چینی بھی شامل ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ بڑھ سکتی ہے۔
نوجوان اس مسئلے سے زیادہ کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟
نوجوان نسل آج کل موبائل فون، لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتی ہے۔ آن لائن کلاسز، گیمز، ویڈیوز اور سوشل نیٹ ورکنگ کے باعث وہ روزانہ کئی گھنٹے اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہونے لگتی ہے۔
ڈیجیٹل تھکاوٹ کی عام علامات
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کی چند عام علامات یہ ہیں آنکھوں میں خشکی اور جلن سر درد اور گردن میں درد توجہ کی کمی اور ذہنی دباؤ چڑچڑاپن اور بے چینی نیند کی خرابی دھندلی بینائی اور جسمانی کمزوری
ذہنی صحت پر اثرات
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو نظر انداز کیا جائے تو یہ آگے چل کر بے چینی، اضطراب اور ڈپریشن جیسے سنگین ذہنی امراض کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مسلسل اسکرین کا استعمال دماغ کو اوور لوڈ کر دیتا ہے، جس سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
بیس-بیس-بیس اصول کیا ہے؟
ماہرین آنکھوں کی حفاظت کے لیے بیس-بیس-بیس اصول تجویز کرتے ہیں۔ اس کے مطابق ہر بیس منٹ بعد بیس سیکنڈ کے لیے
بیس فٹ دور کسی چیز کو دیکھیں یہ عادت آنکھوں کو آرام دینے اور دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ڈیجیٹل تھکاوٹ سے بچاؤ کے طریقے
اس مسئلے سے بچنے کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر یہ ہیں اسکرین کے استعمال کے لیے وقت مقرر کریں وقفے وقفے سے آرام کریں ورزش اور واک کو معمول بنائیں کتاب پڑھنے اور آف لائن سرگرمیوں میں وقت گزاریں سونے سے پہلے موبائل کا استعمال کم کریں
مزید پڑھیں
ایپل کی اپنے ایئرپوڈز میں کیمرے متعارف کرانے کی تیاری










