لیاقت شہید کی خدمات کا اعتراف، ستارہ شجاعت، والدہ نے ایوارڈ وصول کیا دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے لاہور، اسلام آباد اور پشاور کیلئے پروازیں معطل کر دیں کراچی میں شدید گرمی کے دوران طویل لوڈشیڈنگ، شہری اذیت میں مبتلا انگلینڈ کی سابق ویمن پلیئر سارہ ٹیلر مینز ٹیم کی فیلڈنگ کوچ مقرر
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، دفاع کیلئے پوری طاقت سے لڑنے کو تیار ہیں: عباس عراقچی

Iran Foreign Minister Abbas Araghchi speaking at BRICS meeting on military solution and defense stance

سفارت کاری کو واحد راستہ قرار

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کے موجودہ مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں دے سکتی۔

برکس اجلاس میں ایران کا مؤقف

نئی دہلی میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ علاقائی استحکام اور سیاسی حل پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔

جنگ کی صورت میں سخت ردعمل کا اعلان

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ملک اپنے دفاع کے لیے پوری طاقت سے لڑے گا۔ ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

امریکا اور اسرائیل پر تنقید

عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کو خطے میں کشیدگی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے انہیں غیر قانونی جارحیت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ان اقدامات کی کھل کر مذمت کی جائے۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف

انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک اہم بین الاقوامی تجارتی راستہ ہے جو تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے، تاہم ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون ضروری ہے تاکہ خطے میں سکیورٹی اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی خدشات

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کی طرف لے جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی حساسیت عالمی معیشت کے لیے بھی اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں
مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کا نیٹ ورک کیسے کام کرتا تھا؟ مزید حقائق سامنے آگئے

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین