ایران جنگ کے بعد امریکا کے میزائل ذخائر میں کمی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد میزائل ذخائر کی کمی پوری کرنے کے لیے بڑی خریداری کی جائے گی۔
پینٹاگون نے 10 ہزار میزائل خرید لیے
رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے مختلف دفاعی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں جن کے تحت 10 ہزار کم لاگت میزائل خریدے جائیں گے۔ یہ منصوبہ لو کاسٹ کنٹینرائزڈ میزائلز پروگرام کے تحت شروع کیا گیا ہے۔
جنگ کے دوران ذخائر میں نمایاں کمی
ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکا کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی. جس کے بعد دفاعی حکام نے فوری طور پر ذخائر کو بحال کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے۔
آزمائشی مرحلہ جون سے شروع ہوگا
پینٹاگون کے مطابق اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں جون سے مختلف کمپنیوں سے آزمائشی میزائل حاصل کیے جائیں گے تاکہ ان کی کارکردگی اور جنگی صلاحیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
ہائپرسونک میزائل منصوبہ
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے. کہ ایک علیحدہ معاہدے کے تحت امریکا ہر سال کم از کم 500 جدید ہائپرسونک میزائل حاصل کرے گا۔ یہ میزائل انتہائی تیز رفتار اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے۔
دفاعی ماہرین کی رائے
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا اپنی عسکری تیاریوں کو مضبوط بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تنازع میں فوری اور مؤثر دفاعی صلاحیت برقرار رہے۔
طویل مدتی حکمت عملی
گزشتہ رپورٹس کے مطابق امریکا کو میزائل ذخائر جنگ سے پہلے کی سطح پر لانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں. اسی لیے اب کم لاگت اور تیزی سے تیار ہونے والے جدید ہتھیاروں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے.
مزید پڑھیں
ایران کے خلاف ٹرمپ کی سخت دھمکی، عالمی مارکیٹوں میں تشویش کی لہر










