لیاقت شہید کی خدمات کا اعتراف، ستارہ شجاعت، والدہ نے ایوارڈ وصول کیا دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے لاہور، اسلام آباد اور پشاور کیلئے پروازیں معطل کر دیں کراچی میں شدید گرمی کے دوران طویل لوڈشیڈنگ، شہری اذیت میں مبتلا انگلینڈ کی سابق ویمن پلیئر سارہ ٹیلر مینز ٹیم کی فیلڈنگ کوچ مقرر
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پاکستان میں تعلیمی بحران، ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم پنجاب میں تعداد زیادہ

Pakistani school children facing education crisis with many kids out of school especially in Punjab region

پاکستان میں تعلیمی بحران

پاکستان میں تعلیمی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑتی جا رہی ہے، جہاں سرکاری اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد آبادی کے لحاظ سے بڑے صوبے پنجاب کی بتائی جا رہی ہے، جو ملک کا تعلیمی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

پنجاب میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد

رپورٹس کے مطابق پنجاب میں لاکھوں بچے آج بھی تعلیم کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ دیہی اور دور دراز علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہے، جہاں نہ صرف اسکولوں کی کمی ہے بلکہ موجودہ تعلیمی ادارے بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

تعلیمی بحران کی بڑی وجوہات

ماہرین کے مطابق پاکستان میں تعلیمی بحران کی اہم وجوہات یہ ہیں غربت اور مہنگائی میں اضافہ اساتذہ کی کمی اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان والدین کی معاشی مشکلات معیارِ تعلیم میں کمی یہ تمام عوامل مل کر بچوں کو تعلیم سے دور کر رہے ہیں۔

ماہرین اور تعلیمی ماہرین کی رائے

ماہر تعلیم اور سابق صوبائی وزیر تعلیم عمران مسعود کے مطابق دیہی علاقوں میں والدین معاشی دباؤ کی وجہ سے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے مزدوری پر لگانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں ایک استاد پر پورا اسکول چل رہا ہے جو تعلیمی معیار کو متاثر کر رہا ہے۔

سرکاری اسکولوں کی صورتحال

بہت سے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، فرنیچر کی عدم دستیابی اور بنیادی سہولیات کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے نتیجے میں طلبہ کو معیاری تعلیم حاصل نہیں ہو پاتی اور وہ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

نجی اسکولوں کی مہنگی فیسیں

شہری علاقوں میں اگرچہ نجی اسکولوں کا نظام بہتر ہے، لیکن ان کی بھاری فیسیں غریب اور متوسط طبقے کے لیے تعلیم کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومتی اقدامات اور دعوے

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اسکول سے باہر بچوں کو واپس تعلیم کے نظام میں لانے کے لیے خصوصی مہمات شروع کی گئی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان اقدامات کے نتائج ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئے۔
مزید پڑھیں
بجلی صارفین سے تقریباً 9 روپے فی یونٹ اضافی ٹیکس وصولی کا انکشاف

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین