ایران کے خلاف ٹرمپ کی سخت دھمکی
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی سخت دھمکی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی منڈیوں میں شدید اضطراب
رپورٹس کے مطابق کاروباری ہفتے کا آغاز عالمی مارکیٹوں میں خوف اور غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہوا۔ سرمایہ کاروں نے حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت شروع کر دی، جس سے اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
خام تیل کی قیمتیں 111 ڈالر سے تجاوز
کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھ کر 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ توانائی کی عالمی سپلائی پر ممکنہ دباؤ کی واضح علامت ہے۔
کشیدگی کی اصل وجہ کیا ہے؟
معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ اس اہم تجارتی راستے کے متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اسٹاک مارکیٹس میں مندی اور سرمایہ کاروں کا ردعمل
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں نے غیر یقینی صورتحال کے باعث حصص کی فروخت شروع کر دی، جس سے مالیاتی مارکیٹس میں عدم استحکام بڑھ گیا۔
ٹرمپ کا سخت بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو فوری طور پر امن معاہدے کی طرف بڑھنا ہوگا، ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
توانائی کے عالمی بحران کا خدشہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ممکن ہے۔
مزید پڑھیں
جون میں بجلی کی قیمت نہ بڑھانے کا فیصلہ، عوام کو بڑا ریلیف مل گیا










