آئینی ترمیم کے باوجود کھربوں روپے کی سودی ادائیگیاں جاری رہیں گی
آئینی ترمیم کے باوجود آئندہ مالی سال میں حکومت کی جانب سے کھربوں روپے کی سودی ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے قرضوں کے بوجھ اور مالی نظم و نسق پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سودی ادائیگیوں میں بڑا حصہ
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومتی اخراجات کا ایک بڑا حصہ اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے جانے کی توقع ہے۔
آئینی ترمیم کے باوجود صورتحال برقرار
ماہرین کے مطابق آئینی ترامیم کے باوجود مالی ذمہ داریوں اور قرضوں کی موجودہ ساخت کے باعث سودی ادائیگیاں فوری طور پر ختم ہونا ممکن نہیں، جس کے لیے مرحلہ وار معاشی اصلاحات درکار ہوں گی۔
معیشت پر اثرات
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سودی ادائیگیوں کا بڑھتا بوجھ ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح اور دیگر اہم شعبوں کے لیے دستیاب مالی وسائل کو محدود کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
ارجنٹینا کی فتح کے بعد متنازع فیصلے زیرِ بحث، صارفین نے ریفری کو آڑے ہاتھوں لے لیا










