حیدرآباد میں عدالتی حکم پر 150 سے زائد دکانیں سیل
حیدرآباد میں سپریم کورٹ کے احکامات پر پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے پولیس کی ملکیتی اراضی پر قائم 150 سے زائد دکانیں سیل کر دیں، جس کے بعد متاثرہ دکانداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
عدالتی حکم پر پولیس کی کارروائی
ڈسٹرکٹ پولیس ترجمان کے مطابق چھوٹکی گھٹی اور مولانا محمد علی جوہر روڈ پر واقع پولیس شاپنگ مال اور الرحیم شاپنگ سینٹر میں قائم دکانوں کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سیل کیا گیا۔ کارروائی پولیس کے اسٹیٹ افسر محمد صلاح الدین کی نگرانی میں رات گئے مکمل کی گئی۔
دکانداروں کا احتجاج اور شدید ردعمل
کارروائی کی اطلاع ملتے ہی متاثرہ دکاندار بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ گئے۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور دکانداروں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔ بعد ازاں دکانداروں نے تھانہ سٹی کا گھیراؤ کیا، پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور الرحیم شاپنگ سینٹر کے باہر مرکزی شاہراہ پر احتجاج کیا۔
دکانداروں کا مؤقف
متاثرہ تاجروں کا کہنا ہے کہ دکانوں سے متعلق مقدمہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اگلی سماعت 10 جولائی 2026 کو مقرر ہے۔ ان کے مطابق بغیر کسی پیشگی نوٹس کے دکانیں سیل کر دی گئیں، جبکہ اندر کروڑوں روپے مالیت کا سامان موجود ہے۔ دکانداروں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سیل ختم کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
پولیس کا مؤقف
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق متعلقہ قانونی کارروائی جاری ہے اور عدالت کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی آرامکو نے تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا










