مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے انٹرنیٹ پر استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی (PHP) میں دو انتہائی اہم سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں ویب سائٹس کی حفاظت سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سائبر سکیورٹی محققین کے مطابق، ان خامیوں سے فائدہ اٹھا کر ہیکرز بعض متاثرہ سرورز پر بغیر اجازت کمانڈز چلا سکتے ہیں اور حساس معلومات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ خامیاں 21 اکتوبر 2026 کو منظر عام پر آئیں، جبکہ سکیورٹی ماہرین نے فوری اپ ڈیٹس انسٹال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ایچ پی میں دو سنگین سکیورٹی خامیوں کا انکشاف
سائبر سکیورٹی محققین نے پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں دو اہم خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جنہیں CVE-2026-109618 اور CVE-2026-109619 کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ یہ خامیاں میموری کو سنبھالنے کے طریقہ کار میں موجود مسائل سے متعلق ہیں۔
ماہرین کے مطابق، مخصوص حالات میں ان خامیوں کا فائدہ اٹھا کر حملہ آور متاثرہ سرور پر اپنی مرضی کا کوڈ چلا سکتے ہیں۔ اس سے ویب سائٹس کا کنٹرول حاصل کرنے، ڈیٹا چوری کرنے یا ویب سروسز میں خلل ڈالنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم تمام ویب سائٹس متاثر ہونے یا ان کے ہیک ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
مصنوعی ذہانت نے کئی سال پرانی خامیاں کیسے تلاش کیں؟
سائبر سکیورٹی کمپنیوں کے مطابق، اے آئی ٹولز نے محققین کو پی ایچ پی کے کوڈ کا تجزیہ کرنے، ممکنہ کمزوریوں کو آپس میں جوڑنے اور ان کے ذریعے حملے کے امکان کی جانچ کرنے میں مدد دی۔
تحقیق میں Wiz کے اے آئی ٹول Atlas، گوگل کے Gemini 4 Argon اور OpenAI کے GPT-5.6 Sol کا استعمال کیا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان ٹولز کی مدد سے ایسے پیچیدہ مسائل کی جانچ ممکن ہوئی جن کی شناخت اور عملی تصدیق روایتی طریقوں سے کہیں زیادہ وقت لے سکتی تھی۔
اس واقعے نے سائبر سکیورٹی میں اے آئی کے بڑھتے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی سکیورٹی خامیاں تلاش کرکے نظام کو محفوظ بنانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن حملہ آور بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
لاکھوں ویب سائٹس اور ورڈپریس صارفین کو خطرہ کیوں ہے؟
پی ایچ پی دنیا بھر میں ویب سائٹس چلانے کے لیے استعمال ہونے والی اہم پروگرامنگ زبانوں میں شامل ہے۔ ورڈپریس، ڈروپل اور جوملا جیسے پلیٹ فارمز بھی پی ایچ پی پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے بنیادی سافٹ ویئر میں موجود سنگین خامیاں بڑی تعداد میں ویب سائٹس کو متاثر کرسکتی ہیں۔
سائبر سکیورٹی کمپنی Palo Alto Networks کے مطابق، 22.6 ملین سے زائد عوامی طور پر دستیاب سسٹمز ممکنہ طور پر ان خامیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ تعداد ممکنہ طور پر کمزور سسٹمز کی نشاندہی کرتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سسٹمز ہیک ہوچکے ہیں۔
خاص طور پر پرانے سرورز، اپ ڈیٹ نہ ہونے والی ویب سائٹس اور ایسے ہوسٹنگ ماحول کو فوری طور پر جانچنے کی ضرورت ہے جہاں ویب سائٹ مالکان خود سرور کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ نہیں کرسکتے۔
ہیکرز کی جانب سے خامیوں کا فائدہ اٹھانے کی کوششیں
سائبر سکیورٹی کمپنی Cloudflare کے مطابق، ان خامیوں کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد انہیں استعمال کرنے کی کوششوں میں تیزی دیکھی گئی۔ کمپنی کے سربراہ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہزاروں کوششیں ریکارڈ ہوئیں، جن کی تعداد بعد میں لاکھوں تک پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق، بعض سرکاری اداروں اور تنظیموں نے حفاظتی اقدامات کے طور پر اپنی کچھ ویب سائٹس عارضی طور پر آف لائن بھی کیں تاکہ ضروری سکیورٹی اپ ڈیٹس لگائی جاسکیں۔ تاہم حملے کی کوششوں کی تعداد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اتنی ہی ویب سائٹس کامیابی سے ہیک ہوئی ہیں۔
ویب سائٹس کو محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
پی ایچ پی کے منتظمین نے متاثرہ ورژنز کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹس جاری کی ہیں۔ ویب سائٹ مالکان، ڈویلپرز اور ہوسٹنگ فراہم کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سسٹمز کا ورژن چیک کریں اور متعلقہ اپ ڈیٹس فوری طور پر انسٹال کریں۔
ورڈپریس ویب سائٹس کے مالکان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہوسٹنگ فراہم کنندہ سے پی ایچ پی ورژن کی تصدیق کریں، ورڈپریس اور پلگ اِنز کو اپ ڈیٹ رکھیں، اہم ڈیٹا کا بیک اپ بنائیں اور سرور کے مشکوک لاگز کا جائزہ لیں۔ اگر ہوسٹنگ کمپنی سرور کی سطح پر اپ ڈیٹ خود کرتی ہے تو اس سے تحریری تصدیق حاصل کرنا مفید ہوگا
مزید پڑھیں
انگلینڈ کے خلاف کامیابی، پاکستان نے ون ڈے رینکنگ میں آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑ دیا





