لاہور کی ضلع کچہری نے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ آن لائن فروخت کرکے امریکی محکمہ ڈاک کو مبینہ طور پر 35 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کے مقدمے میں گرفتار ملزم فہیم اکرم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ملزم کو عدالت میں پیش کرکے مزید تفتیش اور مبینہ فراڈ سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے ملزم کو 26 اکتوبر 2026 کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔
لاہور کی عدالت کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
ملزم فہیم اکرم کو این سی سی آئی اے نے ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔ تفتیشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں مالی لین دین، مبینہ فراڈ کے طریقہ کار اور اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے کردار کا تعین کرنا ضروری ہے۔
تفتیشی ادارے نے طویل جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے پانچ روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو 26 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران تفتیشی ٹیم ملزم سے پوچھ گچھ اور دستیاب شواہد کی جانچ کرے گی۔
جعلی ویب سائٹ کے ذریعے لاکھوں ڈاک ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام
این سی سی آئی اے کی تحقیقات کے مطابق، ملزم اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک مبینہ طور پر LabelsBank.com کے نام سے ایک ویب سائٹ چلا رہا تھا۔ الزام ہے کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ اور شپنگ لیبل فروخت کیے گئے۔
حکام کے مطابق، ویب سائٹ پر ہر ڈاک ٹکٹ کی قیمت تقریباً دو امریکی ڈالر رکھی گئی تھی۔ مبینہ طور پر اس طریقے سے امریکی پوسٹل سروس کے نظام کو بائی پاس کرکے پارسل بھیجنے کے لیے جعلی لیبل فراہم کیے جاتے تھے۔ ان الزامات کی مزید تفصیلات تفتیش اور عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے کی توقع ہے۔
مبینہ فراڈ سے امریکی محکمہ ڈاک کو 35 ارب روپے کا نقصان
امریکی حکام کے مطابق، اس مبینہ فراڈ سے امریکی پوسٹل سروس کو تقریباً 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچا، جس کی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 35 ارب روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ امریکی ریاست فلوریڈا میں ملزم کے خلاف اس معاملے پر فرد جرم بھی عائد کی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق، جعلی ویب سائٹ سے ہزاروں افراد نے شپنگ لیبل خریدے۔ امریکی حکام اس معاملے کو بڑے پیمانے پر ڈاک کی ترسیل کے نظام سے متعلق فراڈ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ملزم پر عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
فراڈ نیٹ ورک کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال ہونے کا انکشاف
این سی سی آئی اے کے مطابق، مبینہ فراڈ کے لیے خاندان کے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں ملزم، اس کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں ان اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والے مالی لین دین اور رقم کی منتقلی کا جائزہ لے رہی ہیں۔
تحقیقات کے سلسلے میں پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں چھاپے مارنے اور متعدد افراد سے پوچھ گچھ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تفتیش کا مقصد مبینہ نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان کی نشاندہی کرنا اور مالی شواہد جمع کرنا ہے۔
مزید پڑھیں
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 20 دسمبر کی تاریخ مقرر کردی









