سعودیہ کا سفر کرنے والوں کے لیے ویکسی نیشن کی شرط میں ایک ماہ کی توسیع پی ٹی آئی کی سیاسی مشکلات کے پیچھے سخت گیر عناصر کا کردار قرار الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 20 دسمبر کی تاریخ مقرر کردی جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ آن لائن فروخت کرکے 35 ارب کا فراڈ کرنے والے ملزم کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

خفیہ اطلاع پر این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 13 سالہ بچی کو آن لائن نیٹ ورک سے بچا لیا گیا

NCCIA Rescues 13-Year-Old Girl in Karachi

کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایک بین الاقوامی خفیہ ادارے سے موصول ہونے والی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر ڈارک ویب سے منسلک آن لائن نیٹ ورک کے رابطے میں موجود 13 سالہ بچی کو بازیاب کرا لیا۔ حکام کے مطابق، بچی کو خطرناک سرگرمیوں پر مبنی مختلف ٹاسک دیے جا رہے تھے۔ بروقت کارروائی کے باعث اسے خود کو شدید نقصان پہنچانے کے مبینہ ٹاسک پر عمل کرنے سے پہلے بچا لیا گیا۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

بین الاقوامی خفیہ اطلاع پر این سی سی آئی اے کی کارروائی

رپورٹس کے مطابق، این سی سی آئی اے کو ایک بین الاقوامی خفیہ ادارے کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کراچی میں ایک کم عمر بچی مبینہ طور پر خطرناک آن لائن نیٹ ورک کے رابطے میں ہے۔

اطلاع ملنے کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے کارروائی کی اور بچی تک رسائی حاصل کرکے اسے ممکنہ نقصان سے محفوظ کیا۔ حکام کے مطابق، بچی کے آن لائن رابطوں اور اسے ہدایات دینے والے اکاؤنٹس کی شناخت کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ڈارک ویب سے منسلک گروہ کی جانب سے خطرناک ٹاسک دینے کا الزام

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق، بچی کو مبینہ طور پر ڈارک ویب سے منسلک ایک گروہ مختلف مراحل میں خطرناک کام کرنے کی ہدایات دے رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، پہلے ٹاسک میں بچی سے بلی کو زہر دے کر ہلاک کرنے کو کہا گیا، جس پر اس نے عمل کیا۔

بعد ازاں مبینہ طور پر اسے خود کو شدید نقصان پہنچانے کا حکم دیا گیا۔ تاہم، اس ٹاسک پر عمل درآمد سے پہلے تحقیقاتی ٹیم بچی تک پہنچ گئی۔ حکام کی جانب سے سامنے آنے والی یہ تفصیلات تفتیش کا حصہ ہیں اور نیٹ ورک کے مکمل طریقہ کار کی مزید جانچ جاری ہے۔

والدین بچی کی آن لائن سرگرمیوں سے لاعلم تھے

حکام کے مطابق، بچی کے والدین کو اس کی آن لائن سرگرمیوں اور مبینہ نیٹ ورک سے رابطوں کا علم نہیں تھا۔ واقعے کے سامنے آنے کے بعد انہیں صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔

یہ معاملہ اس بات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ والدین بچوں کی انٹرنیٹ سرگرمیوں، نامعلوم افراد سے رابطوں اور آن لائن ملنے والی غیر معمولی ہدایات پر توجہ دیں۔ بچوں کو بھی اعتماد دیا جانا چاہیے کہ اگر کوئی آن لائن شخص انہیں خوف زدہ کرے، خطرناک کام کرنے پر مجبور کرے یا خود کو نقصان پہنچانے کا کہے تو وہ فوراً والدین یا کسی قابلِ اعتماد بالغ فرد کو بتائیں
مشتبہ اکاؤنٹس اور دیگر بچوں کو نشانہ بنانے کے خدشے کی تحقیقات

بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے احتیاط ضروری

ماہرین کی عمومی رہنمائی کے مطابق، بچوں کو انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت ذاتی معلومات، تصاویر اور مقام نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ آن لائن خطرات کے بارے میں کھل کر بات کریں اور ایسا ماحول فراہم کریں جہاں بچے کسی مشکوک رابطے یا دھمکی کی اطلاع بلا خوف دے سکیں۔

اگر کوئی آن لائن اکاؤنٹ بچے کو خطرناک سرگرمی، خود کو نقصان پہنچانے یا کسی دوسرے کو نقصان دینے کی ہدایت دے تو اس رابطے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور متعلقہ حکام کو اطلاع دینی چاہیے۔ کراچی میں سامنے آنے والا یہ واقعہ بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت اور مشکوک آن لائن نیٹ ورکس کی بروقت نشاندہی کی اہمیت واضح کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل مزید مہنگا ہوگیا

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین