سعودیہ کا سفر کرنے والوں کے لیے ویکسی نیشن کی شرط میں ایک ماہ کی توسیع پی ٹی آئی کی سیاسی مشکلات کے پیچھے سخت گیر عناصر کا کردار قرار الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 20 دسمبر کی تاریخ مقرر کردی جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ آن لائن فروخت کرکے 35 ارب کا فراڈ کرنے والے ملزم کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ایران پر دوبارہ حملہ جلد ہوسکتا ہے، ٹرمپ کا اشارہ

Trump Hints at Possible New Iran Attacks

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تہران کے خلاف مزید اقدامات کرسکتا ہے۔ 22 اکتوبر 2026 کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایران کے معاملے پر جلد کوئی اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ ان کے بیان کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے اور امریکا و ایران کے درمیان تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے کسی نئے حملے کی حتمی تاریخ یا منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ٹرمپ کا ایران کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ایران کے خلاف پہلے ہی بڑی کارروائی کرچکا ہے اور مزید اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم ان کے تازہ بیان کو نئے فوجی حملے کے حتمی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا، کیونکہ کسی کارروائی کی باقاعدہ منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال

ٹرمپ نے اس سے قبل بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کررہا۔ ان کے مطابق، تنازع کے حوالے سے جلد کسی نہ کسی نوعیت کی پیش رفت ہوسکتی ہے، لیکن انہوں نے اس کی نوعیت واضح نہیں کی۔

ان بیانات سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جیسے معاملات شامل ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی فوجی منصوبوں سے متعلق رپورٹس

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کی فوجوں نے ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ رپورٹ میں امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے واقف افراد کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر امریکی وسط مدتی انتخابات، جو 3 نومبر 2026 کو ہونے والے ہیں، کے بعد عمل درآمد پر غور کیا جاسکتا ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ٹرمپ کی جانب سے ان منصوبوں کی منظوری یقینی نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ممکنہ فوجی منصوبوں کے بارے میں حتمی تصدیق نہیں کی۔ اس لیے نئے حملے کے امکان اور کسی باقاعدہ فیصلے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

آبنائے ہرمز اور تیل کی عالمی منڈی پر اثرات

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

تازہ بیانات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آیا کشیدگی مزید بڑھے گی یا سفارتی کوششوں کے ذریعے کسی معاہدے کی راہ نکلے گی۔ تاہم مستقبل میں تیل کی قیمتوں اور رسد پر اثرات کا انحصار زمینی صورتحال اور فریقین کے اگلے اقدامات پر ہوگا۔

ایران پر ممکنہ حملے کے بارے میں حتمی فیصلہ باقی

صدر ٹرمپ کے بیانات اور میڈیا رپورٹس سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا امکان زیر بحث آیا ہے، لیکن تاحال کسی نئے حملے کی حتمی تاریخ یا باقاعدہ منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔

آنے والے دنوں میں امریکی حکومت کے فیصلوں، ایران کے ردعمل اور سفارتی رابطوں پر عالمی توجہ رہے گی۔ اگر فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی کی رسد اور بین الاقوامی سفارت کاری تک پھیل سکتے ہیں۔ فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے اور آئندہ پیش رفت کا انحصار واشنگٹن اور تہران کے فیصلوں پر ہوگا۔
مزید پڑھیں
بلوچستان کے دالبندین اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین