پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال پر غور کے لیے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے مرکزی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مذاکراتی عمل میں صوبائی نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ خیبر پختونخوا کے معاملات پر مؤثر انداز میں بات ہوسکے۔
علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ
پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے اکثریتی رائے سے فیصلہ کیا کہ علی امین گنڈاپور کو مرکزی مذاکراتی عمل میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی دی جائے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال اور منتخب حکومت کی بحالی سے متعلق معاملات مذاکرات میں زیر بحث آنے چاہییں۔
اس فیصلے کے تحت گنڈاپور وفاقی حکومت کے ساتھ رابطوں میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کا مؤقف پیش کرسکیں گے۔ تاہم مذاکرات کے نتائج کا انحصار دونوں جانب کی آمادگی اور آئندہ ہونے والی مشاورت پر ہوگا۔
گورنر راج کے بعد سیاسی رابطوں کی کوششیں
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کی پارلیمانی قیادت نے سیاسی رابطے بحال کرنے اور صوبے کی حکومت سے متعلق معاملات پر بات چیت شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کے اہم وزرا سے رابطے بھی کیے، تاہم وفاق کی جانب سے فوری طور پر کسی حتمی پیش رفت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ مشاورت کے بعد مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ آگے بڑھ سکتا ہے۔
سہیل آفریدی اور جنید اکبر کے عہدوں سے متعلق وضاحت
صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ محمد سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور جنید اکبر پارٹی کے صوبائی صدر ہیں۔ اعلامیے کے مطابق، گنڈاپور کو مذاکرات کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ ان آئینی اور تنظیمی عہدوں میں تبدیلی نہیں ہے۔
پارلیمانی پارٹی نے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اراکین نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے معاملے کا نوٹس لینے اور اختلافات کو پارٹی کے اندر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی کے اندر اختلافات اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت
حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے درمیان مذاکراتی حکمت عملی اور تنظیمی معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ بعض صوبائی اراکین کا مؤقف ہے کہ صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ان کی رائے کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔
پارٹی کی پارلیمانی قیادت نے زور دیا ہے کہ مرکزی اور صوبائی سطح پر رابطہ کاری بہتر بنائی جائے تاکہ سیاسی معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا جاسکے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی رہنماؤں سے ایک دوسرے کے خلاف عوامی بیانات سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
مذاکرات میں صوبے کی بحالی اور سیاسی معاملات زیر بحث ہوں گے
رپورٹس کے مطابق، پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ، صوبائی حکومت کی بحالی اور گرفتار پارٹی رہنماؤں سے متعلق معاملات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ پارٹی نے ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی اور قانونی راستے اختیار کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
فی الحال وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کسی حتمی نتیجے یا باقاعدہ معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار فریقین کے ردعمل، سیاسی مشاورت اور مذاکرات کے لیے طے پانے والے طریقہ کار پر ہوگ
مزید پڑھیں
تھرپارکر میں رینجرز کی طبی سہولت، مریضوں کو مفت معائنے کے ساتھ ادویات بھی فراہم







