شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی کاوشیں جاری رہیں تو نوبیل انعام ممکن، وکٹر گاؤ پنجاب میں غریب کسانوں کیلئے 4 ایکڑ زمین صرف 100 روپے سالانہ لیز پر دینے کا اعلان سعودی آرامکو نے تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا حیدرآباد میں عدالتی حکم پر 150 سے زائد دکانیں سیل، دکانداروں کا احتجاج
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ایران جنگ کے بعد امریکا کے میزائل ذخائر میں کمی، پینٹاگون نے 10 ہزار میزائل خرید لیے

US Pentagon missile stock replenishment program showing military missiles and defense systems increase after conflict situation

ایران جنگ کے بعد امریکا کے میزائل ذخائر میں کمی

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد میزائل ذخائر کی کمی پوری کرنے کے لیے بڑی خریداری کی جائے گی۔

پینٹاگون نے 10 ہزار میزائل خرید لیے

رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے مختلف دفاعی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں جن کے تحت 10 ہزار کم لاگت میزائل خریدے جائیں گے۔ یہ منصوبہ لو کاسٹ کنٹینرائزڈ میزائلز پروگرام کے تحت شروع کیا گیا ہے۔

جنگ کے دوران ذخائر میں نمایاں کمی

ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکا کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی. جس کے بعد دفاعی حکام نے فوری طور پر ذخائر کو بحال کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے۔

آزمائشی مرحلہ جون سے شروع ہوگا

پینٹاگون کے مطابق اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں جون سے مختلف کمپنیوں سے آزمائشی میزائل حاصل کیے جائیں گے تاکہ ان کی کارکردگی اور جنگی صلاحیت کا جائزہ لیا جا سکے۔

ہائپرسونک میزائل منصوبہ

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے. کہ ایک علیحدہ معاہدے کے تحت امریکا ہر سال کم از کم 500 جدید ہائپرسونک میزائل حاصل کرے گا۔ یہ میزائل انتہائی تیز رفتار اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے۔

دفاعی ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا اپنی عسکری تیاریوں کو مضبوط بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تنازع میں فوری اور مؤثر دفاعی صلاحیت برقرار رہے۔

طویل مدتی حکمت عملی

گزشتہ رپورٹس کے مطابق امریکا کو میزائل ذخائر جنگ سے پہلے کی سطح پر لانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں. اسی لیے اب کم لاگت اور تیزی سے تیار ہونے والے جدید ہتھیاروں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے.

مزید پڑھیں
ایران کے خلاف ٹرمپ کی سخت دھمکی، عالمی مارکیٹوں میں تشویش کی لہر

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین