چین کا اگلے 3 سال میں امریکا سے وعدہ
چین نے آئندہ تین سال کے دوران امریکا سے تقریباً سترہ ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا ہے، جسے عالمی تجارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں زرعی مصنوعات کی خریداری بڑھانے کا وعدہ کیا۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی۔
زرعی معاہدے کی تفصیلات
فیکٹ شیٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سترہ ارب ڈالر کے نئے وعدوں میں اکتوبر دو ہزار پچیس میں سویا بین کی خریداری کا پہلے سے کیا گیا وعدہ شامل نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ معاہدہ امریکا کی زرعی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
تجارتی اور سرمایہ کاری بورڈز کے قیام کی تصدیق
وائٹ ہاؤس کے مطابق چینی قیادت نے امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعاون کو منظم کرنے کے لیے دو اہم بورڈز کے قیام کی تصدیق کی ہے، جن میں ایک تجارتی بورڈ اور دوسرا سرمایہ کاری بورڈ شامل ہوگا۔ ان اداروں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
امریکی صدر کے مثبت بیانات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے حالیہ دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑے تجارتی معاہدے طے پا چکے ہیں اور تعلقات بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس دورے کو کامیاب اور تاریخی قرار دیا۔
عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق چین اور امریکا کے درمیان اس نوعیت کے معاہدے عالمی زرعی منڈیوں پر مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف زرعی پیداوار کی طلب بڑھے گی بلکہ عالمی سطح پر تجارتی استحکام کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، امریکا کی 5 شرائط اور ایران کے جوابی مطالبات










