یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے روسی فضائی حدود بند کرنے کی دھمکی پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پیوٹن نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی ملک نے روسی طیاروں کی پروازوں کو روکنے یا فضائی راستے محدود کرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
زیلنسکی کا سخت بیان
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے روسی فضائی حدود سے متعلق اقدامات کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو مزید محدود کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔
پیوٹن کا انتباہ
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرینی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روس اپنی فضائی حدود اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے کسی بھی ممکنہ پابندی یا رکاوٹ کو اشتعال انگیز اقدام قرار دیا۔
روس یوکرین کشیدگی میں اضافہ
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ فضائی حدود، فوجی کارروائیوں اور سفارتی اقدامات سے متعلق بیانات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
فضائی پابندیوں کا معاملہ
روسی فضائی حدود دنیا کے اہم فضائی راستوں میں شمار ہوتی ہیں، جہاں سے مختلف ممالک کی ایئر لائنز پروازیں کرتی ہیں۔ کسی بھی قسم کی پابندی عالمی فضائی سفر اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔
روس کا دفاعی مؤقف
ماسکو کا مؤقف ہے کہ روس اپنی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ روسی حکام کے مطابق کسی بھی بیرونی دباؤ کا جواب دیا جائے گا۔
عالمی سطح پر تشویش
روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر عالمی برادری بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق فضائی حدود سے متعلق تنازع صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور
دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم سخت بیانات اور نئے اقدامات سے مذاکرات کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں
راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش، تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت










