وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاک ایران تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
صدر پزشکیان کے دورہ پاکستان کے فیصلوں پر عملدرآمد
دونوں رہنماؤں نے رواں سال جون میں ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر مختلف شعبوں میں طے پانے والی مفاہمت کو عملی شکل دینے پر بات چیت کی گئی۔
علاقائی صورتحال پر اہم گفتگو
ملاقات میں خطے کی تازہ صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تحمل، برداشت اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی مضبوط بنیادوں پر قائم قرار دیا۔
علاقائی رابطوں کو فروغ دینے پر زور
دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات مزید بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم کے مطابق خطے میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں اور طے شدہ مفاہمت پر عملدرآمد ضروری ہے۔
پاکستان ایران تعاون میں مزید وسعت کا امکان
ایرانی صدر نے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، علاقائی رابطوں اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔
شہباز شریف کی ایرانی صدر کو پاکستان آنے کی دعوت
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ان کی سہولت کے مطابق جلد پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔ ایرانی صدر نے وزیراعظم کو دسمبر میں تہران میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔
مزید پڑھیں
روسی فوج میں شامل دو سو ستائیس بھارتیوں کا انجام، اکیاون یوکرین جنگ میں ہلاک










