امریکا کینیڈا تجارتیبنوں میں امن کمیٹی اور پولیس کا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے معاہدہ ہوگیا لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد سرفراز احمد کی کوچنگ پر سوالات اٹھنے لگے پمز سانحہ کے بعد مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ، وزیراعظم نے منظور نہیں کیا محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کا بڑا فیصلہ، وادی میں انٹرنیٹ بحالی کا آغاز
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ایران جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے: صدر ٹرمپ

: Donald Trump rules out using nuclear weapons in the Iran war

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ صحافی کی جانب سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو فوجی طور پر شکست دی جاچکی ہے، اس لیے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔

ٹرمپ نے ایٹمی حملے کا امکان مسترد کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا آپشن خارج کردیا ہے؟ اس پر امریکی صدر نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مسترد کردیا اور ایران کی موجودہ فوجی صورتحال کا حوالہ دیا۔

ایران کو فوجی شکست کا دعویٰ

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو فوجی طور پر شکست دی جاچکی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے خلاف مزید کارروائی کے لیے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایران جنگ میں کشیدگی برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر براہِ راست فوجی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ تازہ کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے خلاف حملے کیے جبکہ ایران کی جانب سے بھی امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دونوں جانب سے کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔

ٹرمپ کا جوہری ہتھیاروں پر مؤقف

ایرانی جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا سوال پہلے بھی امریکی صدر سے کیا جاچکا ہے۔ اپریل 2026 میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایٹمی ہتھیار کسی کو بھی استعمال نہیں کرنے چاہئیں اور امریکا نے ایران کے خلاف روایتی ہتھیاروں سے کارروائی کی ہے۔

ایران کو ایٹمی ہتھیار سے روکنے پر زور

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی ایران سے متعلق جنگی پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے اگست میں بھی کہا تھا کہ ایران کو کسی بھی شکل میں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری

فوجی کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی زیر بحث رہی ہیں۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک بھی سفارتی رابطے کررہے ہیں۔

جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ

امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست حملوں نے خطے میں صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ موجودہ کشیدگی کسی بڑے علاقائی تنازع میں تبدیل نہ ہو اور فریقین مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔
مزید پڑھیں
بشکیک میں شہباز شریف اور ایرانی صدر کی ملاقات، پاک ایران تعاون مزید بڑھانے پر زور

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین