متعدد وی پی این ایپس پرائیویسی کے بجائے ڈیٹا لیک
آن لائن پرائیویسی اور سیکیورٹی کے لیے استعمال ہونے والی کئی مقبول ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپس صارفین کے حساس ڈیٹا کو محفوظ رکھنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق متعدد وی پی این ایپس صارفین کی معلومات لیک کرنے اور بنیادی سیکیورٹی معیارات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔
یونیورسٹی آف مشی گن کی تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
یونیورسٹی آف مشی گن انجینئرنگ کی تحقیق میں ایم وی پی اینالائزر نامی جدید فریم ورک کے ذریعے اینڈرائیڈ کی 281 مقبول وی پی این ایپس کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کئی ایپس میں ایسی خامیاں موجود ہیں جو صارفین کی پرائیویسی کو متاثر کرتی ہیں۔
تحقیق کے اہم نتائج
تحقیق کے مطابق 29 وی پی این ایپس صارفین کی ڈومین نیم سسٹم (ڈی این ایس) اور براؤزر ٹریفک لیک کر رہی تھیں، جبکہ 20 فیصد سے زائد ایپس انٹرنیٹ ڈیٹا کو بغیر خفیہ کاری منتقل کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ 60 فیصد سے زیادہ ایپس میں بنیادی سیکیورٹی فیچرز بھی موجود نہیں تھے، جس سے سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کی وارننگ
تحقیق کی سینئر مصنفہ پروفیسر رویا انصافی کے مطابق لاکھوں افراد اپنی آن لائن سیکیورٹی کے لیے وی پی این پر انحصار کرتے ہیں، لیکن بہت سی ایپس بنیادی حفاظتی تقاضے بھی پورے نہیں کر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کو وی پی این منتخب کرتے وقت احتیاط کرنی چاہیے اور صرف قابلِ اعتماد سروسز استعمال کرنی چاہئیں۔
مزید پڑھیں
اسٹریس سے نجات چاہتے ہیں؟ یہ غذائیں آپ کے مزاج کو خوشگوار بنا سکتی ہیں










