بڑے شہروں میں نائٹ پارٹیز ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجہ
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں نائٹ پارٹیز، منشیات کے استعمال اور غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں کے باعث ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی صحت کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا۔
ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز پر تشویش
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور صحت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نائٹ پارٹیز میں منشیات کے استعمال کے بعد نوجوانوں میں غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آبادی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ وزیراعظم آبادی میں تیزی سے اضافے کے معاملے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور اس حوالے سے متعدد اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام پر مشتمل کمیٹی اس معاملے پر باقاعدہ کام کر رہی ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر تحفظات
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کو 82 فیصد وزن دینا صوبوں کو آبادی بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی دیگر ممالک میں وسائل کی تقسیم میں آبادی کا تناسب کہیں کم رکھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں آبادی کم ہونے کی صورت میں صوبوں کے فنڈز بھی متاثر ہوتے ہیں۔
مانع حمل ادویات پر ٹیکس ختم
وزیر صحت نے بتایا کہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ کی کاوشوں سے موجودہ بجٹ میں مانع حمل ادویات پر تمام ٹیکس ختم کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مانع حمل وسائل کی دستیابی بہتر ہوگی اور آبادی میں اضافے کی شرح کم کرنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں آبادی کا بڑھتا رجحان
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے، جو ملک کے وسائل، صحت اور تعلیم کے نظام پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مؤثر پالیسیوں اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں
اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر سے بچی کی لاش ملنے پر والدین میں خوف و ہراس










