پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کردیا۔ وزیراعظم نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین اور حقائق سامنے لانے کی ہدایت کی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ پیش کردیا
پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم شہباز شریف کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم نے استعفیٰ مسترد کردیا
وزیراعظم شہباز شریف نے مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ قبول نہیں کیا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مشکل وقت میں ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے بجائے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
پمز سانحے پر وزیراعظم کا اظہار افسوس
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت بھی کی۔
واقعے کی تحقیقات جاری
پمز سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کی جانب سے نرسری میں آتشزدگی کے حالات، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر زور
حکومت کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار افراد کا تعین کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
صحت کے نظام پر سوالات
پمز سانحے کے بعد اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات بھی زیر بحث آگئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے حساس مقامات پر حفاظتی نظام کی باقاعدہ جانچ اور عملے کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔
متاثرہ خاندانوں میں غم کی فضا
سانحے کے بعد جاں بحق بچوں کے خاندان شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ واقعے نے ملک بھر میں بھی غم کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ عوام کی جانب سے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں
بنوں میں امن کمیٹی اور پولیس کا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے معاہدہ ہوگیا










