امریکا کینیڈا تجارتی کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کردیا ملتان میں شوہر نے سسرال میں گھس کر فائرنگ کردی، بیوی قتل، ساس زخمی لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کے 9 کھلاڑی آؤٹ، اسکور 248 رنز تک پہنچ گیا پمز اسپتال کی نرسری میں پندرہ نہیں، چالیس سے پچاس بچے موجود تھے: ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پالک، بادام اور شکر قندی بھی بعض آنتوں کے مریضوں کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہیں

Spinach, almonds and sweet potatoes may trigger gut symptoms in some patient

عام طور پر پالک، بادام اور شکر قندی کو صحت بخش غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن بعض آنتوں کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے یہ غذائیں علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہر شخص کا نظامِ ہاضمہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے کسی غذا کا اثر بھی فرد کی صحت اور آنتوں کی حالت کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

صحت بخش غذائیں ہر کسی کیلئے یکساں نہیں

پالک، بادام اور شکر قندی میں مختلف غذائی اجزا اور فائبر موجود ہوتے ہیں جو عام حالات میں صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم حساس آنتوں یا بعض ہاضمے کے مسائل میں زیادہ فائبر یا مخصوص غذائی اجزا بعض افراد کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔

پالک سے بھی مسئلہ ہوسکتا ہے

پالک غذائیت سے بھرپور سبزی ہے اور اس میں فائبر سمیت کئی اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ تاہم کچھ افراد میں زیادہ مقدار میں پالک کھانے سے پیٹ پھولنے، گیس یا آنتوں کی تکلیف میں اضافہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر جب آنتیں پہلے ہی حساس ہوں۔

بادام بھی علامات بڑھا سکتے ہیں

بادام میں فائبر، صحت مند چکنائیاں اور دیگر غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں، لیکن بعض افراد انہیں آسانی سے ہضم نہیں کرپاتے۔ زیادہ مقدار میں بادام کھانے سے کچھ لوگوں کو پیٹ پھولنے یا ہاضمے کی دیگر شکایات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

شکر قندی کا استعمال

شکر قندی بھی غذائیت سے بھرپور غذا ہے، لیکن اس میں موجود فائبر اور قدرتی کاربوہائیڈریٹس بعض حساس آنتوں والے افراد میں ہاضمے کی علامات پیدا کرسکتے ہیں۔ مقدار کم رکھنا اور جسم کے ردعمل پر توجہ دینا بعض افراد کے لیے مددگار ہوسکتا ہے۔


آنتوں کے مریض مقدار کا خیال رکھیں

اگر کسی مخصوص غذا کے استعمال کے بعد پیٹ میں درد، گیس، اپھارہ یا دیگر علامات محسوس ہوں تو اس غذا کی مقدار کم کرنا بہتر ہوسکتا ہے۔ تاہم اپنی خوراک سے مستقل طور پر کسی غذائی چیز کو نکالنے سے پہلے ماہرِ غذائیت یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ہر مریض کیلئے غذا مختلف ہوسکتی ہے

آنتوں کے مسائل میں ایک ہی غذا ہر شخص پر یکساں اثر نہیں ڈالتی۔ کچھ افراد پالک، بادام اور شکر قندی بغیر کسی مسئلے کے کھا سکتے ہیں، جبکہ دوسروں میں یہی غذائیں علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔ اسی لیے ذاتی برداشت کو سمجھنا اہم ہے۔

متوازن غذا ضروری ہے

آنتوں کی صحت کے لیے متوازن اور متنوع غذا کے ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینا بھی اہم ہے۔ اگر ہاضمے کی علامات مسلسل برقرار رہیں یا شدت اختیار کریں تو خود سے غذا میں بڑی تبدیلی کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں
اے آئی سائبر حملوں کا خطرہ، ٹیکنالوجی کمپنیوں کا دفاعی اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین