پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد بچوں کی تعداد سے متعلق اہم دعویٰ سامنے آیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے بتایا کہ پمز اسپتال کے دورے کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ نرسری میں چالیس سے پچاس بچے موجود تھے۔
نرسری میں بچوں کی تعداد زیادہ تھی
ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کے مطابق پمز اسپتال کی نرسری میں بچوں کی تعداد ابتدائی طور پر بتائی جانے والی تعداد سے کہیں زیادہ تھی۔ انہوں نے اپنے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں چالیس سے پچاس بچے موجود تھے، بلکہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
پمز سانحے کی تحقیقات جاری
پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحے کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات بھی جاری ہیں تاکہ آتشزدگی کی اصل وجہ اور انتظامی معاملات کا جائزہ لیا جاسکے۔
تحقیقات پر سوالات اٹھ گئے
نرسری میں موجود بچوں کی تعداد سے متعلق سامنے آنے والے بیان کے بعد سانحے کی تحقیقات مزید اہم ہوگئی ہیں۔ واقعے کی مکمل تصویر سامنے لانے کے لیے نرسری میں موجود بچوں کی اصل تعداد، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لینا ضروری قرار دیا جارہا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ
پروگرام میں گفتگو کے دوران سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے بھی پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے تمام پہلوؤں کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔
اصل حقائق سامنے لانے کی ضرورت
پمز سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی جانب سے بھی اصل حقائق سامنے لانے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ نرسری میں کتنے بچے موجود تھے اور آتشزدگی کے وقت حفاظتی انتظامات کس حد تک مؤثر تھے۔
مزید معلومات کا انتظار
ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کے بیان کے بعد پمز اسپتال کی نرسری میں بچوں کی اصل تعداد سے متعلق بحث مزید اہم ہوگئی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے کے حوالے سے مزید حقائق واضح ہونے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں
لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کے 9 کھلاڑی آؤٹ، اسکور 248 رنز تک پہنچ گیا










