امریکا کینیڈا تجارتی کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کردیا
امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ایک نیا اور غیر معمولی موڑ آگیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکا میں جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ رکھنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تنازع کے دوران سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ کا بڑا فیصلہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام ’’لیک امریکا‘‘ رکھنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے۔ اس حکم کے تحت امریکی وفاقی اداروں کو سرکاری دستاویزات، نقشوں اور دیگر حوالوں میں نیا نام استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کینیڈا نے نام تبدیل کرنے سے انکار کردیا
ٹرمپ کے فیصلے پر کینیڈا کی جانب سے واضح ردعمل سامنے آیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ جھیل کا تاریخی نام برقرار رہے گا اور کینیڈا اسے ’’جھیل اونٹاریو‘‘ ہی کہے گا۔ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے بھی نام کی تبدیلی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
تجارتی جنگ کے دوران فیصلہ
جھیل کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان ٹیرف اور تجارتی معاملات پر شدید اختلافات جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوچکے ہیں، جبکہ ایک دوسرے کی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔
جھیل اونٹاریو کی تاریخی اہمیت
جھیل اونٹاریو شمالی امریکا کی پانچ بڑی جھیلوں میں شامل ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ امریکا اور کینیڈا کی سرحد کے درمیان واقع ہے۔ اس جھیل کا نام چار سو سال سے زیادہ پرانا ہے اور اس کی جڑیں مقامی وینڈٹ زبان سے ملتی ہیں۔
صرف امریکا میں نام تبدیل ہوگا
ٹرمپ کا حکم امریکا کے وفاقی استعمال تک محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی سرکاری ادارے جھیل کو ’’لیک امریکا‘‘ کے نام سے ظاہر کریں گے، تاہم یہ حکم کینیڈا یا بین الاقوامی اداروں کو نام تبدیل کرنے کا پابند نہیں کرتا۔
کینیڈا امریکا تعلقات مزید متاثر
تجارتی اختلافات کے ساتھ جغرافیائی نام کی تبدیلی نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام سفارتی تعلقات میں مزید تلخی کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک پہلے ہی تجارت کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید نام بدلنے کا اشارہ بھی دے دی
جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کے بعد ٹرمپ نے بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے نام تبدیل کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے۔ تاہم فی الحال ان دونوں سمندروں کے نام تبدیل کرنے کا کوئی باقاعدہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں
پمز اسپتال کی نرسری میں پندرہ نہیں، چالیس سے پچاس بچے موجود تھے: ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ











