وزیراعظم نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے کیا کہا؟
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور پاکستان ہر اس اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنے۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور عالمی برادری کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
علاقائی امن پر بڑھتے خدشات
وزیراعظم کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ پورے خطے کے امن اور استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور حالات کو مزید بگڑنے سے بچائیں۔
پاکستان کا مؤقف
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کو بات چیت اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کرنا ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
عالمی برادری سے اپیل
وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق بروقت سفارتی اقدامات مزید تصادم کو روکنے اور خطے میں امن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقین کو ایسے فیصلے کرنے چاہییں جو خطے کے عوام کے مفاد اور عالمی استحکام کے لیے سودمند ہوں۔
خطے کی صورتحال پر گہری نظر
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ضروری سفارتی رابطے بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔
نتیجہ
سعودی عرب پر حملوں کے بعد وزیراعظم نے سخت ردعمل دیتے ہوئے علاقائی امن و استحکام پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کیا جائے اور مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
مزید پڑھیں
فضل الرحمان کا خطاب نہیں سنا، شہدا سے متعلق ان کی گفتگو سے اتفاق نہیں: پی ٹی آئی چیئرمین









