بیساکھی میلہ، کرتارپور میں یاتریوں کا پرتپاک استقبال
نارووال میں واقع گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور میں بیساکھی میلہ کی رنگا رنگ تقریبات کا آغاز ہو گیا۔ اس میلے میں بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔ جنہوں نے یہاں آ کر مذہبی رسومات ادا کیں اور روحانیت کے اہم لمحے گزارے۔
یاتریوں کی آمد اور خوش آمدید
واہگہ بارڈر کے راستے ہزاروں سکھ یاتری پاکستان پہنچے۔ جنہیں حسن ابدال سے کرتارپور لایا گیا۔ دربار انتظامیہ اور مذہبی رہنماؤں نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ جس سے محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوئی۔ یاتریوں کا خیرمقدم نہ صرف مذہبی رہنماؤں نے کیا، بلکہ مقامی افراد نے بھی ان کا دل سے استقبال کیا۔ جس سے ان کے دلوں میں پاکستان کے لیے محبت اور احترام مزید بڑھ گیا۔
مذہبی عبادات اور روحانی ماحول
یاتری گوردوارہ دربار صاحب میں حاضری دے رہے ہیں اور ماتھا ٹیک کر اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں۔ یہاں کا روحانی ماحول انتہائی پُر سکون اور عقیدت سے بھرپور ہے۔ یاتریوں کا کہنا ہے کہ یہ مقام ان کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہاں آ کر انہیں روحانی سکون ملتا ہے اور وہ اپنے مذہبی عقائد کی تکمیل کر پاتے ہیں۔
پاکستان کی مہمان نوازی کی تعریف
سکھ یاتریوں نے پاکستان کی مہمان نوازی کو بے حد سراہا۔ ان کا کہنا تھا۔ کہ انہیں یہاں بے پناہ عزت اور محبت ملی ہے۔ یاتریوں نے قیام، کھانے پینے اور سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کی تعریف کی، جس سے ان کا سفر اور بھی یادگار بن گیا۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ان کی عزت افزائی اور محبت کی فضاء نے ان کے دل جیت لیے ہیں۔
راہداری کو مزید آسان بنانے کا مطالبہ
یاتریوں نے کرتارپور راہداری کو مزید آسان بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا۔ کہ اگر راہداری میں مزید سہولتیں فراہم کی جائیں، تو زیادہ سے زیادہ یاتری اس راہدار ی سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں رکاوٹوں کا سامنا نہیں کریں گے۔ یاتریوں نے خواہش ظاہر کی کہ کرتارپور راہداری کی آسانی سے بیشتر سکھ دنیا بھر سے یہاں آ سکیں گے اور اپنے مذہبی عقائد کی تکمیل کر سکیں گے۔
مزید پڑھیں
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، اعلیٰ حکام بھی شریک











