وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے کہا ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انتظامی نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنا رہی ہے۔
وزیراعظم دفتر نظام کا جائزہ اجلاس
احد چیمہ نے وزیراعظم دفتر نظام کے نفاذ سے قبل اسے مزید مؤثر اور صارف دوست بنانے کی ہدایت کی۔ یہ بات انہوں نے وزیراعظم دفتر نظام کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں نظام کی بہتری پر تفصیلی غور کیا گیا۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید حکومتی نظام
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم دفتر نظام ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد حکومتی نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔ یہ نظام مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بنائے گا اور حکومتی فیصلوں کی نگرانی کو مؤثر کرے گا۔
وفاقی اداروں کا مربوط ڈیجیٹل نیٹ ورک
حکام کے مطابق یہ پلیٹ فارم تمام وفاقی وزارتوں کو وزیراعظم دفتر کے ساتھ ایک مرکزی نظام میں منسلک کرے گا۔ اس کے ذریعے تمام حکومتی کاموں، منصوبوں اور اہداف کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہوگی، جس سے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
خودکار الرٹ نظام اور اسمارٹ نوٹیفکیشنز
وزیراعظم دفتر نظام کی اہم خصوصیت اس کا خودکار الرٹ نظام ہے۔ یہ نظام مقررہ مدت سے تاخیر کا شکار کاموں پر متعلقہ افسران کو فوری پاپ اپ اطلاع ناموں کے ذریعے آگاہ کرے گا، تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
چیٹ جی پی ٹی پر مبنی ریسرچ اور ورچوئل معاون
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے چیٹ جی پی ٹی پر مبنی ریسرچ سسٹم بھی تیار کیا ہے۔ یہ نظام سرکاری دستاویزات اور فیصلوں سے مدد لیتے ہوئے افسران کو تیز رفتار معلومات فراہم کرے گا اور ایک ورچوئل معاون کے طور پر بھی کام کرے گا۔
ڈیجیٹل گورننس کی طرف اہم پیش رفت
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمرانی کی طرف ایک بڑا قدم ہیں۔ ان کے مطابق اس نظام سے کارکردگی، شفافیت اور عوامی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
مزید پڑھیں
ایران کے رویے سے مالی مستقبل جڑا ہے، ٹرمپ نے 300 ارب ڈالر فنڈ کا اشارہ دے دیا










