قائمہ کمیٹی کی منظوری
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے غیر رجسٹرڈ کاروبار، سوشل میڈیا آمدن اور دیگر شعبوں پر نئے ٹیکس اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں متعدد اہم مالیاتی تجاویز پر غور کے بعد فیصلہ کیا گیا۔
غیر رجسٹرڈ کاروبار پر 5 فیصد ٹیکس
قائمہ کمیٹی نے غیر رجسٹرڈ دکانوں اور کاروباروں کے لیے 2 کروڑ روپے سالانہ فروخت کی حد مقرر کر دی ہے۔ اس حد سے اوپر کاروبار کرنے والوں پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا آمدن پر نیا ٹیکس
اجلاس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر بھی 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔
پی آئی اے نجکاری اور ٹیکس استثنیٰ پر تحفظات
کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کے بعد 15 سالہ ٹیکس استثنیٰ کی درخواست پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ مشیر نجکاری محمد علی کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا گیا تاکہ معاملے کی وضاحت کی جا سکے۔
سیلز ٹیکس قانون میں بڑی تبدیلیاں
کمیٹی نے سیلز ٹیکس قانون کے تیسرے شیڈول میں 116 نئی اشیا شامل کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔ اس اقدام سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو سالانہ 50 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے۔
اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ نئی ٹیکس پالیسی کے باعث 15 اگست کے بعد بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کمیٹی ارکان نے اس ممکنہ اثر پر تشویش کا اظہار کیا۔
ٹیکس چھوٹ اور دیگر تجاویز
کمیٹی نے متعدد ٹیکس چھوٹ سے متعلق تجاویز کی منظوری یا موخر کرنے کے فیصلے کیے۔ حکام کے مطابق حکومت پہلے ہی تقریباً 4 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کر چکی ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل معیشت پر فوکس
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا آمدن پر ٹیکس عائد کرنا ڈیجیٹل معیشت کو ریگولیٹ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سے حکومتی ریونیو میں اضافہ متوقع ہے۔
مزید پڑھیں
بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرے، سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: اسحاق ڈار










