اے آئی ایگزیکٹوز کے ساتھ ٹرمپ کے معاہدے کی دستاویز جاری سعودی کابینہ اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے کے سیکریٹریٹ کی پیشرفت کا جائزہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرا دی گئی /span> گھریلو تنازع کا افسوسناک انجام، لاہور میں خاتون مبینہ طور پر زہر دے کر قتل
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اے آئی ایگزیکٹوز کے ساتھ ٹرمپ کے معاہدے کی دستاویز جاری

Trump AI Executives Accord

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی کے شعبے سے وابستہ اہم ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی دستاویز جاری کردی۔

29 ستمبر 2026 کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام نے مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق ایک رضاکارانہ معاہدے پر اتفاق کیا۔ ٹرمپ نے اسے اخلاقی طور پر پابند معاہدہ قرار دیا۔

معاہدے میں کیا شامل ہے؟

جاری کردہ ایک صفحے کی دستاویز میں اے آئی کمپنیوں کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات اور نگرانی کا فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔ کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اے آئی سسٹمز کی نگرانی کے لیے مضبوط داخلی کنٹرولز قائم کریں۔

معاہدے کے مطابق کمپنیوں کو ایسے داخلی نظام بھی تیار کرنے ہوں گے جو ماڈلز کے آپریشن، نگرانی اور ممکنہ مسائل کی نشاندہی کرسکیں۔

چار سطحی نگرانی کا نظام

دستاویز میں اے آئی کی نگرانی کے لیے چار سطحوں پر مشتمل نظام کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس میں کمپنی کے اندرونی کنٹرولز اور نگرانی کے علاوہ آزاد آڈیٹرز کے ذریعے جائزہ اور بورڈ کی سطح پر نگرانی بھی شامل ہے۔

اس نظام کا مقصد اے آئی سسٹمز کے غلط یا غیر مجاز استعمال اور ممکنہ تکنیکی خطرات کی نشاندہی اور روک تھام کرنا ہے۔

بڑی اے آئی کمپنیوں کی شرکت

رپورٹس کے مطابق معاہدے میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، گوگل، میٹا، ایکس اے آئی اور اینویڈیا سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اے آئی سسٹمز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ ان کی حفاظت، سائبر سیکیورٹی اور نگرانی سے متعلق سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

معاہدہ قانونی طور پر لازمی نہیں

دستاویز کی اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک رضاکارانہ فریم ورک ہے، جسے فوری طور پر کسی قانونی ضابطے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے معاہدے کو اخلاقی پابندی کے طور پر بیان کیا ہے۔

اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ مختلف حلقوں کی جانب سے اس شعبے میں مزید حفاظتی اقدامات اور نگرانی پر بھی زور دیا جا رہا ہے
مزید پڑھیں
گھریلو تنازع کا افسوسناک انجام، لاہور میں خاتون مبینہ طور پر زہر دے کر قتل

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین