ریاض: سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے جنرل سیکریٹریٹ کے قیام سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
مکہ دفاعی معاہدے پر پیشرفت
اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری اقدامات پر غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں جنرل سیکریٹریٹ، متعلقہ کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام اور ان کی سرگرمیوں کے آغاز سے متعلق پیشرفت زیر بحث آئی۔
تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاع، فوجی رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
فوجی رابطہ کاری پر بھی توجہ
25 ستمبر 2026 کو تینوں ممالک کے سربراہانِ افواج کا ریاض میں اجلاس بھی ہوا، جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات، انٹیلی جنس تعاون، فوجی رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔
سیکریٹریٹ کہاں قائم ہوگا؟
دستیاب معلومات کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے جنرل سیکریٹریٹ کا ہیڈکوارٹر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد معاہدے کے تحت ہونے والی مشترکہ سرگرمیوں اور رابطہ کاری کو منظم کرنا ہے۔
خطے کی سکیورٹی صورتحال
کابینہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان حالیہ رابطوں میں اجتماعی دفاع اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو دہرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
اے آئی ایگزیکٹوز کے ساتھ ٹرمپ کے معاہدے کی دستاویز جاری










