امریکا کینیڈا تجارتی کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کردیا ملتان میں شوہر نے سسرال میں گھس کر فائرنگ کردی، بیوی قتل، ساس زخمی لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کے 9 کھلاڑی آؤٹ، اسکور 248 رنز تک پہنچ گیا پمز اسپتال کی نرسری میں پندرہ نہیں، چالیس سے پچاس بچے موجود تھے: ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اے آئی سائبر حملوں کا خطرہ، ٹیکنالوجی کمپنیوں کا دفاعی اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ

Technology companies call for stronger defenses against AI cyber attack

مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والے سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے سائبر دفاع مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کردیا ہے۔ سو سے زائد ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں سے وابستہ اداروں نے مشترکہ طور پر خبردار کیا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی سائبر حملوں کو مزید پیچیدہ اور مؤثر بنا سکتی ہے۔

اے آئی سے سائبر خطرات میں اضافہ

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت حملہ آوروں کو سائبر کارروائیاں زیادہ تیزی اور بڑے پیمانے پر کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اے آئی کی مدد سے کم وقت میں سکیورٹی کی کمزوریوں کا پتا لگانے اور حملوں کو خودکار بنانے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

سو سے زائد کمپنیوں کا مشترکہ مطالبہ

سو سے زائد کمپنیوں اور اداروں نے مشترکہ خط میں حکومتوں اور نجی شعبے پر زور دیا ہے کہ سائبر سکیورٹی کو فوری ترجیح دی جائے۔ ان اداروں میں بڑی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

سائبر دفاع مضبوط بنانے پر زور

کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی سے پیدا ہونے والے نئے سائبر خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاعی نظام کو تیزی سے بہتر بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی، ماہرین اور بہتر نگرانی کے نظام میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

حکومتوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ

مشترکہ اپیل میں حکومتوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ سائبر دفاع کے لیے وسائل میں اضافہ کریں اور نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کریں۔ ماہرین کے مطابق سائبر حملوں کی رفتار بڑھنے کی صورت میں روایتی دفاعی طریقے کافی ثابت نہیں ہوسکتے۔

سائبر خطرات سے نمٹنے کیلئے تعاون ضروری

ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اے آئی سے متعلق سائبر خطرات کسی ایک ادارے یا ملک تک محدود نہیں۔ اس لیے حکومتوں، سائبر سکیورٹی کمپنیوں اور اے آئی لیبارٹریز کے درمیان معلومات کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اہم انفراسٹرکچر کو خطرہ

اے آئی سے چلنے والے سائبر حملوں کے ممکنہ اثرات اہم ڈیجیٹل اور عوامی سہولیات تک پہنچ سکتے ہیں۔ ماہرین نے اسپتالوں، پانی کے نظام، انٹرنیٹ سروسز اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے پہلے سے بہتر حفاظتی انتظامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دفاعی تیاری میں تیزی کی ضرورت

ٹیکنالوجی کے شعبے کی جانب سے سامنے آنے والی یہ اپیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی اب صرف سائبر حملوں کا ممکنہ ذریعہ نہیں بلکہ دفاعی نظام کا بھی اہم حصہ بن رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق خطرات بڑھنے سے پہلے سکیورٹی اقدامات تیز کرنا مستقبل میں بڑے نقصان سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔
مزید پڑھیں
بھارتی ہریانوی گلوکار اور یوٹیوبر انکت بالیان فائرنگ سے قتل

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین