آئینی ترمیم کے باوجود کھربوں روپے کی سودی ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہے گا ارجنٹینا کی فتح کے بعد متنازع فیصلے زیرِ بحث، صارفین نے ریفری کو آڑے ہاتھوں لے لیا
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

خاتون کو ہراساں کرنے پر نجی کمپنی کے 5 افسران کو 27 لاکھ روپے جرمانے کی سزا

Federal Ombudsperson imposes 27 lakh fine on five private company officials in a workplace harassment case in Pakistan.

کام کی جگہ پر ہراسگی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ادارے کے ماحول اور پیشہ ورانہ اقدار کو متاثر کرتی ہے۔ حال ہی میں وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی نے ایک اہم فیصلے میں نجی کمپنی کے پانچ عہدیداروں کو مختلف نوعیت کی ہراسگی اور انتقامی کارروائی ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس فیصلے کو ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

خاتون ملازمہ نے کیا شکایت کی؟

شکایت گزار خاتون نے وفاقی محتسب کو بتایا کہ کمپنی کے مختلف عہدیداروں نے اس کے ساتھ غیر پیشہ ورانہ اور نامناسب رویہ اختیار کیا۔

خاتون کے مطابق ایک عہدیدار نے میٹنگ کے دوران ذاتی نوعیت کے جملے کہے، دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دی اور پروڈکٹ کا نمونہ دکھاتے ہوئے اس کا ہاتھ بھی پکڑا۔

دیگر ملزمان پر کیا الزامات تھے؟

شکایت میں بتایا گیا کہ ایک دوسرے عہدیدار نے خاتون کے نجی پیغامات کی تصاویر بنائیں اور ٹیم کے سامنے اس کی توہین کی۔

اسی طرح ایک اور عہدیدار پر الزام تھا کہ اس نے شکایت کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ڈالی اور وہ سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ نہ کر سکا، حالانکہ اس نے خود متعلقہ فوٹیج دیکھی تھی۔ مزید یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ ایک ملزم نے شکایت گزار کے خلاف انتقامی کارروائی کی ہدایات دیں اور ادارے میں قانون کے مطابق انسدادِ ہراسگی کمیٹی بھی قائم نہیں کی۔

شکایت کے مطابق پانچویں ملزم نے قانونی نوٹس ملنے کے بعد خاتون کو دھمکی آمیز فون کال بھی کی۔

دباؤ کے باعث ملازمت چھوڑنے کا دعویٰ

خاتون ملازمہ کا کہنا تھا کہ مسلسل ہراسگی، دباؤ اور دشمنی کے ماحول کے باعث اسے ملازمت چھوڑنا پڑی۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ استعفے کے بعد بھی اس کے ضروری کاغذات اور واجبات روک لیے گئے۔

ملزمان کا مؤقف کیا تھا؟

سماعت کے دوران تمام ملزمان نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا۔ انہوں نے اپنے دفاع میں شکایت گزار کی شخصیت، لباس اور نجی زندگی کو موضوع بنانے کی کوشش کی، تاہم وفاقی محتسب نے اس مؤقف کو غیر متعلق قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

وفاقی محتسب نے کیا فیصلہ دیا؟

وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی خاتون کی شخصیت، لباس یا سماجی رویہ مقدمے کا بنیادی موضوع نہیں ہوتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ شواہد، گواہوں کے بیانات اور ملزمان کے بیانات میں موجود تضادات سے ہراسگی اور انتقامی کارروائی ثابت ہوتی ہے۔ وفاقی محتسب نے یہ بھی واضح کیا کہ خوش اخلاقی کو رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا اور شکایت درج کرانے میں تاخیر سے مقدمہ کمزور نہیں ہو جاتا۔

کمپنی کو بھی اہم ہدایات جاری

فیصلے کے تحت نجی کمپنی کے پانچ عہدیداروں پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

اس کے ساتھ عدالت نے کمپنی کو ہدایت دی کہ وہ 30 دن کے اندر قانون کے مطابق انسدادِ ہراسگی کمیٹی نئے سرے سے تشکیل دے تاکہ آئندہ ملازمین کو محفوظ اور باوقار کام کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔

یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہر ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین، خصوصاً خواتین، کو محفوظ، باعزت اور ہراسگی سے پاک ماحول فراہم کرے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے فیصلے نہ صرف متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کرتے ہیں بلکہ دیگر اداروں کے لیے بھی واضح پیغام ہیں کہ ہراسگی اور انتقامی رویے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

ارجنٹینا کے خلاف میچ میں متنازع فیصلوں پر مصر نے فیفا سے باضابطہ رجوع کر لیا

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین