آئرن کی کمی اور دماغی صحت کا تعلق
ڈیمنشیا اور دماغی صحت سے متعلق ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسم میں آئرن کی شدید کمی مستقبل میں ذہنی کمزوری اور یادداشت کے مسائل کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
آئرن کی کمی اور جسمانی صحت
اینیمیا اس حالت کو کہا جاتا ہے جب جسم میں خون یا آئرن کی مقدار کم ہو جائے۔ یہ مسئلہ دنیا بھر میں عام پایا جاتا ہے، اور اس کے اثرات صرف جسم تک محدود نہیں رہتے۔ بلکہ یہ دماغی صحت پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟
سویڈن کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق، وہ افراد جنہیں اینیمیا تھا، ان میں بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ دیکھا گیا۔ اس تحقیق میں 60 سال سے زائد عمر کے ہزاروں افراد کو تقریباً 10 سال تک فالو کیا گیا۔
ڈیمنشیا کا بڑھتا ہوا خطرہ
محققین کے مطابق، آئرن کی کمی والے افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ 60 فیصد سے بھی زیادہ دیکھا گیا۔ ڈیمنشیا ایک ایسی کیفیت ہے جس میں یادداشت کمزور ہو جاتی ہے، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، اور روزمرہ کے کام مشکل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کی وضاحت
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ آئرن کی کمی براہِ راست ڈیمنشیا کی وجہ بنتی ہے۔ بلکہ یہ صرف ایک ممکنہ تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق، اس موضوع پر مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اصل وجہ کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
صحت مند زندگی کے لیے احتیاط
ڈاکٹروں کے مطابق، آئرن کی کمی سے بچنے کے لیے متوازن غذا بہت ضروری ہے۔ اگر تھکاوٹ، کمزوری یا یادداشت میں کمی جیسی علامات ظاہر ہوں، تو فوری طور پر طبی مشورہ لینا چاہیے۔
اہم نتیجہ
یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جسمانی غذائی کمی صرف جسم نہیں بلکہ دماغی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس لیے بروقت تشخیص اور علاج بہت اہم ہے۔
مزید پڑھیں
پھل اور سبزیوں کی زیادتی سے کینسر کا خطرہ؟ نئی تحقیق سامنے آگئی










