عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی
ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حملوں کے فوری بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔
اسی ڈالر فی بیرل کی سطح عبور
حالیہ اضافے کے بعد تیل کی عالمی قیمت اسی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں بھی قیمتوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور یہ 73 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کا براہِ راست اثر عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔
سو ڈالر فی بیرل کا خدشہ
توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار رہی یا مزید شدت اختیار کر گئی تو تیل کی عالمی قیمت سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی معیشت کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور صنعتی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: برطانیہ نے امریکا کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی










