وائرس خطرناک بیماری کا سبب
حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ سمندری غذاؤں، خاص طور پر جھینگوں اور دیگر آبی جانوروں میں پایا جانے والا ایک وائرس انسانوں میں آنکھوں کی ایک خطرناک بیماری سے منسلک ہو سکتا ہے، جو شدید صورت میں مستقل نابینا پن تک بھی لے جا سکتی ہے۔
کون سا وائرس اور کون سی بیماری؟
چین کے سائنس دانوں نے ایک وائرس کوورٹ مورٹیلٹی نوڈا وائرس کو ایک نئی ابھرتی ہوئی بیماری سے جوڑا ہے، جسے پرسیسٹنٹ آکیولر ہائپرٹینشن وائرل اینٹیریئر یووائٹس کہا جاتا ہے۔
یہ بیماری کیسے پھیل سکتی ہے؟
تحقیق کے مطابق کچھ مریضوں کی آنکھوں کے ٹشوز میں اس وائرس کے شواہد پائے گئے، اور ان میں سے کئی افراد نے حال ہی میں کچی یا نیم پکی سمندری خوراک استعمال کرنے یا آبی جانوروں کے ساتھ رابطے کی تصدیق کی۔
خطرہ کتنا سنگین ہے؟
اگر یہ تعلق مکمل طور پر ثابت ہو جاتا ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی آبی جانوروں سے جڑا وائرس انسانوں میں منتقل ہو کر آنکھوں کی سنگین بیماری کا سبب بنے۔ ماہرین کے مطابق یہ مستقبل میں ایک بڑا صحت عامہ کا مسئلہ بن سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبی حیات میں موجود وائرس بھی انسانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب سمندری غذا کچی یا غیر محفوظ طریقے سے استعمال کی جائے۔
احتیاط
ماہرین عام طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ سمندری غذا اچھی طرح پکا کر کھائیں کچی سمندری خوراک سے پرہیز کریں حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال رکھیں اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس نے سمندری غذاؤں کی حفاظت اور وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے نئی تشویش ضرور پیدا کر دی ہے۔
مزید پڑھیں
اسمارٹ شیشوں کی دنیا میں ایپل کی انٹری، اے آئی گلاسز پر کام جاری










