آئی ایم ایف کی متحدہ عرب امارات کے قرضوں پر تشویش
اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کی رول اوور میں پاکستان کی ممکنہ ناکامی پر تشویش ظاہر کی ہے، تاہم اسٹیٹ بینک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قلیل مدتی انتظامات مکمل ہیں اور طویل مدتی رول اوور کے لیے امارات سے مذاکرات جاری ہیں۔
وزیر خزانہ کا بیان
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس کے بعد کہا کہ رول اوور میں کوئی مسئلہ نہیں، اور میڈیا اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
آئی ایم ایف مشن کا دورہ
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن بدھ کو کراچی اور اسلام آباد پہنچا، جہاں ٹیم کے ایک رکن نے اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کی اور یو اے ای کے ڈیپازٹس کی رول اوور پر تشویش کا اظہار کیا۔ ممکنہ طور پر آئی ایم ایف یو اے ای کے سفیر سے بھی نئی یقین دہانی حاصل کرے گا۔
تکنیکی مذاکرات اور مالی صورتحال
اسٹیٹ بینک کے حکام نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا کہ جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں 393 ملین ڈالر کا خسارہ تھا۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.74 ارب ڈالر رہا، جو بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
رول اوور کی موجودہ صورتحال
یو اے ای کے کل 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں موجود ہیں، جن میں سے 17 اور 23 جنوری کو میچور ہونے والے دو ڈیپازٹس پہلے ایک ماہ کے لیے رول اوور کیے گئے تھے۔ اب یہ عارضی طور پر 16 اور 23 اپریل تک بڑھا دیے گئے ہیں، اور پاکستان کو ان ڈیپازٹس پر 6.5 فیصد سے زیادہ سود ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2 مارچ کو طلب، صدر زرداری 9ویں بار خطاب کریں گے










