یکم جنوری سے بجلی مزید مہنگی
نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگ گیا ہے۔ کیونکہ یکم جنوری سے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد بجلی فی یونٹ مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ جس کا براہِ راست اثر صارفین کے ماہانہ بلوں پر پڑے گا۔
نیپرا کا فیصلہ، وفاقی حکومت کو ارسال
ایکسپریس نیوز کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر اوسط بنیادی ٹیرف سے متعلق اپنا فیصلہ جاری کر کے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے۔ اس فیصلے کا حتمی اطلاق وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ہوگا۔
نیا اور پرانا بجلی ٹیرف کیا ہے؟
نیپرا کے مطابق جنوری دو ہزار چھبیس سے بجلی کے اوسط بنیادی نرخ تینتیس روپے اڑتیس پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ جبکہ اس وقت ملک میں نافذ فی یونٹ اوسط بنیادی نرخ اکتیس روپے انسٹھ پیسے ہیں۔ اس طرح نیا ٹیرف موجودہ نرخ سے ایک روپے اناسی پیسے فی یونٹ زیادہ ہوگا۔
مالی سال چھبیس، پچیس کے مقابلے میں کمی
اعلامیے میں بتایا گیا ہے۔ کہ جنوری دو ہزار چھبیس سے مقرر کیا گیا۔ قومی اوسط بنیادی ٹیرف مالی سال چھبیس، پچیس کے لیے پہلے سے طے شدہ چونتیس روپے فی یونٹ کے مقابلے میں باسٹھ پیسے کم ہے۔ تاہم اس کے باوجود صارفین پر بوجھ میں اضافہ ہوگا۔
بجلی کی مجموعی مالی ضرورت کا تخمینہ
نیپرا کے مطابق سال دو ہزار چھبیس کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجموعی مالی ضرورت کا تخمینہ تین ہزار تین سو اناسی ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں دو ہزار نو سو تیئس ارب روپے بجلی کی خریداری کی قیمت شامل ہے۔ جبکہ چار سو چھپن ارب پندرہ کروڑ روپے تقسیم کار کمپنیوں کے اخراجات اور منافع کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
سالانہ بجلی فروخت کا اندازہ
اعلامیے کے مطابق سال دو ہزار چھبیس میں بجلی کی سالانہ فروخت کا تخمینہ ایک سو ایک ارب یونٹ لگایا گیا ہے۔ نیپرا کا کہنا ہے۔ کہ ہر تقسیم کار کمپنی کے لیے الگ الگ ٹیرف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم ملک بھر میں یکساں بجلی ٹیرف کا قانون نافذ العمل ہے۔
یکساں ٹیرف سے متعلق فیصلہ بھی ارسال
نیپرا نے ملک بھر میں یکساں بجلی ٹیرف کے نفاذ سے متعلق درخواست پر بھی اپنا فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کر دیا ہے۔ جس پر حتمی منظوری کے بعد عملدرآمد کیا جائے گا۔
عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ تجارتی اور صنعتی شعبہ بھی متاثر ہوگا۔ جس کے نتیجے میں مجموعی مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں
ڈیجیٹل دوڑ میں پاکستان پیچھے، فائیو جی سروس اب تک لانچ نہ ہوسکی











