وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی بعض ادویات کے حوالے سے نئی تحقیق میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ماہرین نے ایسے شواہد کا جائزہ لیا ہے جن کے مطابق ان ادویات سے بعض افراد میں نشہ آور اشیا کی طلب یا استعمال میں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
نشے کی طلب میں کمی کا انکشاف
تحقیق میں اس امکان پر توجہ دی گئی ہے کہ وزن گھٹانے والی کچھ ادویات دماغ میں بھوک اور انعام سے متعلق نظام پر اثر انداز ہو کر نشے کی طلب کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔تاہم ماہرین کے مطابق اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور ان ادویات کو نشے کے علاج کا باقاعدہ متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
دماغی نظام پر ممکنہ اثرات
وزن کم کرنے والی بعض جدید ادویات جسم میں بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس سے متعلق ہارمونل نظام کو متاثر کرتی ہیں۔تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ یہی حیاتیاتی راستے دماغ کے ان حصوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں جو خواہش، انعام اور عادت سے متعلق رویوں میں کردار ادا کرتے ہیں۔
کن ادویات پر تحقیق جاری ہے؟
تحقیق کا بڑا حصہ GLP-۱ سے متعلق ادویات اور اسی نوعیت کے علاج پر مرکوز ہے۔یہ ادویات بنیادی طور پر موٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، تاہم ان کے دیگر ممکنہ فوائد پر بھی سائنسی تحقیق جاری ہے۔
ماہرین نے احتیاط پر زور دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ نشے کی طلب میں کمی کے حوالے سے سامنے آنے والے نتائج دلچسپ ضرور ہیں، لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزن کم کرنے والی ادویات ہر قسم کے نشے کے علاج میں مؤثر ثابت ہوں گی۔مریضوں کو ان ادویات کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
مزید تحقیق کی ضرورت
سائنس دان اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ ادویات طویل مدت میں نشے کی طلب، استعمال اور دوبارہ نشے کی طرف جانے کے امکانات کو کم کرسکتی ہیں یا نہیں۔اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر اور طویل مدتی مطالعات کی ضرورت ہوگی۔
وزن کم کرنے کے علاوہ ممکنہ فوائد
اگر مستقبل کی تحقیق ان نتائج کی تصدیق کرتی ہے تو یہ ادویات موٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کے علاوہ نشے سے متعلق بعض مسائل میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔تاہم فی الحال اس حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔
نتیجہ
وزن گھٹانے والی بعض ادویات کے ممکنہ اضافی فوائد کے حوالے سے اہم شواہد سامنے آئے ہیں، جن میں نشہ آور اشیا کی طلب میں کمی بھی شامل ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس امکان کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے اور ان ادویات کو نشے کے علاج کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے طبی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے
مزید پڑھیں










