روزانہ 5000 قدم چلنا الزائمرز کے خطرے کو کم کر سکتا ہے
ایک تازہ طبی تحقیق کے مطابق روزانہ 5000 سے زائد قدم چلنا دماغی صلاحیت میں کمی اور الزائمرز بیماری سے جڑے پروٹینز کی دماغ میں افزائش کو سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق 14 سال تک جاری رہی اور اسے الزائمر سے متعلق جسمانی سرگرمی کے اثرات کا اپنی نوعیت کا پہلا بڑا مطالعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیق کا پس منظر
ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے 50 سے 90 سال کی عمر کے ایسے 294 افراد کا ڈیٹا جمع کیا جن کے دماغ میں الزائمر سے منسلک پروٹینز موجود تھے۔ مگر ان میں ڈیمینشیا کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ اس تحقیق میں برسوں تک ان افراد کی ذہنی کارکردگی اور جسمانی سرگرمی پر نظر رکھی گئی۔
جسمانی سرگرمی کی پیمائش کیسے کی گئی؟
تحقیق میں شامل افراد کو روزمرہ کی جسمانی سرگرمی کی پیمائش کے لیے پیڈو میٹر پہنائے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے دماغی اسکینز کیے گئے اور ان کی یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کا بھی مسلسل جائزہ لیا جاتا رہا۔ جو تقریباً 14 برس تک جاری رہا۔
ایمیلائڈ اور ٹاؤ پروٹینز کا تعلق
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ان افراد کے دماغ میں ایمیلائڈ اور ٹاؤ پروٹینز موجود تھے۔ جو الزائمرز کی بنیادی علامات میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم جن افراد کی روزمرہ سرگرمی زیادہ تھی، ان کی یادداشت اور دماغی کارکردگی میں کمی بہت سست رفتار سے ہوئی۔
ورزش کے فائدے
ماہرین کے مطابق جن افراد میں الزائمرز کے ابتدائی آثار ظاہر ہونا شروع ہو جائیں۔ ان کے لیے باقاعدہ چہل قدمی یا ہلکی ورزش بیماری کے بڑھنے کی رفتار کو روک سکتی ہے۔ روزانہ صرف 5000 سے 7000 قدم چلنا اس مقصد کے لیے کافی سمجھا جا رہا ہے۔
نتیجہ
تحقیق اس بات کی مضبوط دلیل فراہم کرتی ہے۔ کہ روزمرہ کی جسمانی سرگرمی خصوصاً چلنا (Walking) دماغ کو فعال رکھنے اور بڑھتی عمر میں یادداشت کے مسائل کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
بیٹی کی لاش کو 20 سال تک ڈیپ فریزر میں رکھنے والی خاتون گرفتار











