اگر استعفے سے کراچی بچتا ہے تو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، مصطفیٰ کمال بالائی علاقوں میں برف کا قہر، رابطہ سڑکوں کی بندش، 2 افراد جاں بحق لاہور میں لٹکتی تاروں اور اوورلوڈ کیبلز کے مسئلے پر کمیٹی قائم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

امریکا کی فلسطینی وفد پر پابندی اور عالمی ردعمل

Palestinian delegation denied US visa for UN General Assembly participation

مریکا نے فلسطینی وفد کو ویزا دینے سے انکار کر دیا

امریکا نے فلسطینی وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ اس اقدام کے بعد عالمی سطح پر مختلف ممالک اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اجلاس جنیوا میں کرانے کی تجاویز

میڈیا رپورٹس کے مطابق، فلسطینی وفد کی نیویارک آمد پر پابندی کے سبب کچھ حلقے اجلاس کو جنیوا میں کرانے کی تجاویز دے رہے ہیں، تاہم جنرل اسمبلی کا اجلاس آج سے نیویارک میں شروع ہو رہا ہے۔ اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے سے متعلق اہم فیصلے بھی متوقع ہیں۔

اجلاس کے شیڈول اور عالمی ردعمل

جنرل اسمبلی میں اعلیٰ سطح کے مباحثے 23 سے 27 ستمبر تک جاری رہیں گے، اور اجلاس 29 ستمبر کو اختتام پذیر ہوگا۔

تاریخی پیش منظر

ٹرمپ انتظامیہ کی اس پابندی سے 1988 کے تاریخی واقعے کی یاد تازہ ہو گئی، جب فلسطینی رہنما یاسر عرفات کو نیویارک آنے سے روکا گیا تھا۔ تاہم اس بار پورے فلسطینی وفد کو امریکا آنے سے روکا گیا ہے، جس کا مقصد اوسلو معاہدے کے بعد فلسطینی تاریخ کے ایک اہم ایونٹ میں شرکت کو محدود کرنا بتایا گیا ہے۔

دو ریاستی حل کی کانفرنس

دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس 22 ستمبر کو نیویارک میں ہونا تھی، جس میں سعودی عرب اور فرانس کی قیادت میں فلسطینی صدر کی شرکت متوقع تھی۔ اجلاس میں برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی کو تسلیم کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

یورپی اور عالمی تجاویز

ڈنمارک کے رکن یورپین پارلیمنٹ پرکلاسین نے تجویز دی کہ اجلاس جنیوا میں منعقد کیا جائے تاکہ فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کیا جا سکے اور امریکی صدر کو واضح پیغام بھیجا جائے۔

مزید پڑھیں

وزیراعظم کی ناکامی، فرانسیسی حکومت گر گئی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین