امریکی دباؤ اور ممکنہ اضافی ٹیرف کی دھمکیوں کے باوجود روس نے بھارت کو تیل کی فراہمی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو بھارت کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل کی تجارت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
روس کا واضح مؤقف
بھارت میں روس کے سفیر ڈینس علیپوف نے امریکی دباؤ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت روس سے تیل اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خریدتا ہے۔ روسی مؤقف کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تیل کی تجارت کو امریکی دباؤ کے ذریعے ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔روس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ بھارت کو اس کی ضرورت کے مطابق تیل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو نئی دہلی کے ساتھ توانائی کے تعلقات کو برقرار رکھنے کو اہم سمجھتا ہے۔
امریکا کی ٹیرف دھمکی
امریکا کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی جاتی رہی ہے۔ امریکی حکام کا مقصد بھارت سمیت بڑے خریداروں پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ روسی توانائی کی خریداری کم کریں۔اس دباؤ کے باوجود بھارت نے روسی تیل کی خریداری مکمل طور پر ختم نہیں کی۔ بھارتی حکام پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ روس سے خام تیل کی خریداری تجارتی مفاد اور ملک کی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔
بھارت روسی تیل کا بڑا خریدار
روس کئی عرصے سے بھارت کے لیے خام تیل کے اہم ترین ذرائع میں شامل ہے۔ اگست میں روس نے بھارت کی خام تیل درآمدات کا تقریباً 45 فیصد حصہ فراہم کیا، جبکہ جولائی میں روسی تیل کی درآمد اس سے بھی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی۔تاہم حالیہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگست میں بھارت کی روسی تیل درآمدات جولائی کے مقابلے میں کم ہوئیں۔ اس کمی کی وجوہات میں روسی تیل کی دستیابی میں کمی، چینی ریفائنریوں کی جانب سے زیادہ خریداری اور بھارتی ریفائنریوں کی معمول کی دیکھ بھال شامل بتائی گئی ہیں۔
روس اور بھارت کے تجارتی تعلقات
دونوں ممالک کے درمیان صرف تیل ہی نہیں بلکہ مجموعی تجارت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روس کے مطابق روبل اور بھارتی روپے میں ادائیگیوں کا نظام مزید بہتر ہوا ہے اور اس وقت دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت کا بڑا حصہ مقامی کرنسیوں کے ذریعے انجام دیا جارہا ہے۔یہ مالیاتی نظام روس اور بھارت کو مغربی پابندیوں اور ادائیگیوں سے متعلق رکاوٹوں کے اثرات کم کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
امریکی دباؤ کے باوجود تجارت جاری
روس کا بھارت کو تیل کی فراہمی جاری رکھنے کا مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ امریکی ٹیرف دھمکی کے باوجود دونوں ممالک اپنے توانائی کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے لیے روسی تیل توانائی کے تحفظ اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے حوالے سے اہم ہے۔یوں امریکا، روس اور بھارت کے درمیان تیل کی تجارت آنے والے دنوں میں عالمی توانائی اور بین الاقوامی تجارت کے اہم معاملات میں شامل رہ سکتی ہے
مزید پڑھیں
نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی اکیلے فیصلہ کرسکتی ہے نہ اسے مسترد کرنے کا اختیار ہے: طلال چوہدری










