دو خاندان پورے پاکستان پر مسلط ہیں، پنجاب اور سندھ میں بھی انہی کی حکومتیں بنتی آرہی ہیں: وزیراعلیٰ کے پی کراچی میں پی ٹی آئی کا جلسہ منسوخ، شاہراہ قائدین پر اجتماع کی اجازت نہ مل سکی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کیلئے ایران اور عمان کے درمیان اہم پیش رفت اسلام آباد کا نیا انتظامی نقشہ وزیراعظم کو پیش، 27 رکنی اسمبلی کی سفارشا
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی اکیلے فیصلہ کرسکتی ہے نہ اسے مسترد کرنے کا اختیار ہے: طلال چوہدری

Talal Chaudhry speaking about new provinces in Pakistan

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نہ تو اس معاملے پر اکیلے فیصلہ کرسکتی ہے اور نہ ہی اسے مسترد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو بات چیت اور مشاورت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

نئے صوبوں پر بات چیت ہونی چاہیے

طلال چوہدری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کو یہ کہنا چاہیے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر بات چیت کی جائے۔ ان کے مطابق کسی ایک سیاسی جماعت کے مؤقف کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ یہ ایک اہم قومی اور آئینی معاملہ ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر پیپلز پارٹی کو نئے صوبوں کے معاملے پر کیا خوف ہے اور وہ اس بحث کو آگے بڑھانے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کا اکیلے فیصلہ ممکن نہیں

وزیر مملکت نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کا قیام کسی ایک جماعت کے فیصلے سے ممکن نہیں۔ آئینی طور پر صوبوں کے قیام یا صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے مخصوص پارلیمانی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری بھی کہہ چکے ہیں کہ نئے صوبے انتظامی حکم کے ذریعے نہیں بن سکتے بلکہ آئینی طریقہ کار کے تحت پارلیمان سے فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مطلوبہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔

سندھ کے معاملے پر بھی سوال

طلال چوہدری نے سندھ سے متعلق جاری سیاسی بحث پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو ذات کی اجارہ داری کے بجائے عوامی خدمت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر انتظامی تبدیلی سے عوام کو بہتر سہولیات اور حکمرانی فراہم کی جاسکتی ہے تو اس پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر گورننس اور عوامی سہولت کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔

آئینی طریقہ کار اہم ہے

نئے صوبوں کے معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں، تاہم اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ آئین کے مطابق ہی کیا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے اور آئینی طریقہ کار ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ نئے صوبوں سے متعلق فیصلہ عوامی اتفاق رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور کسی فیصلے کو زبردستی مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

سیاسی بحث مزید تیز ہونے کا امکان

نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر ملکی سیاست میں نمایاں ہوگیا ہے۔ حکومت کی جانب سے انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کی بات سامنے آنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں۔طلال چوہدری کے تازہ بیان سے واضح ہے کہ حکومت اس معاملے پر سیاسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے حق میں ہے، جبکہ حتمی فیصلہ بہرحال آئینی تقاضوں، پارلیمانی عمل اور سیاسی اتفاق رائے سے ہی ممکن ہوگ
مزید پڑھیں
نئے صوبوں کا قیام وقت اور حالات کو دیکھ کر ہونا چاہیے: مولانا فضل الرحمان

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین