ایران کے خلاف جنگ پر دوبارہ غور
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی اور خطے کی صورتحال پر غور کے لیے اہم قومی سلامتی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
اہم اجلاس آج ہوگا
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں ہونے والے اس اجلاس میں ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں اعلیٰ عسکری اور سیکیورٹی حکام کی شرکت متوقع ہے۔
کون کون شریک ہوگا؟
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں جے ڈی وینس اسٹیو وٹکوف مارکو روبیو پیٹ ہیگسیتھ جان ریٹکلیف سمیت اہم شخصیات شریک ہوسکتی ہیں۔
فوجی آپشنز زیر غور
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان میں پراجیکٹ فریڈم دوبارہ فعال کرنا ایران کے اہم اہداف پر حملے اور خطے میں عسکری دباؤ بڑھانا شامل ہوسکتا ہے۔
نیوکلیئر پروگرام پر دباؤ
امریکی حکام کے مطابق ممکنہ اقدامات کا مقصد ایران کو اس کے نیوکلیئر پروگرام پر رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کے ذریعے مذاکراتی دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔
جنگ بندی پر خدشات
ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے نیوکلیئر مواد کو صرف امریکا اور چین ہی بازیافت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی برقرار
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی عالمی سیاست اور توانائی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ امریکی قومی سلامتی اجلاس کو اسی تناظر میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اہم صورتحال
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں سفارتی اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں
صدر مملکت کی وزیراعظم کو مہنگائی کم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی ہدایت










