تہلکہ خیز انکشاف
دی بیورو آف انویسٹیگیٹو جرنلزم کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ نفرت انگیز ویڈیوز برطانیہ میں پھیلا کر سوشل میڈیا اشتہارات سے پیسہ کمایا گیا۔
اے آئی ویڈیوز سے نفرت انگیز مہم
رپورٹ کے مطابق ان ویڈیوز میں کئیر اسٹارمر اور صادق خان کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک جعلی ویڈیو کو لاکھوں افراد نے دیکھا جس کے بعد معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے شخص کا اعتراف
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں موجود ایک شخص ان ویڈیوز کی پوسٹنگ میں ملوث پایا گیا۔ اس شخص نے اعتراف کیا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ماہانہ آمدن حاصل کر رہا تھا، تاہم کمزور انگریزی کی وجہ سے مواد کی مکمل نوعیت سمجھ نہیں سکا۔
سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند
نشاندہی کے بعد متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے جبکہ کچھ متنازع پوسٹس بھی حذف کر دی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کو مزید آسان بنا دیا ہے۔
میٹا کے اشتہاری نظام پر سوالات
میٹا کے اشتہاری ماڈل پر بھی سوالات اٹھائے گئے کہ نفرت انگیز اور گمراہ کن مواد کے ذریعے مالی فائدہ کیسے حاصل کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایسے مواد کی روک تھام کے لیے مزید سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔
صادق خان کے دفتر کا ردعمل
صادق خان کے ترجمان نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ نفرت انگیز اور جعلی مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز معاشرتی نفرت اور تقسیم کو بڑھا سکتی ہیں۔
اے آئی کے غلط استعمال پر تشویش
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے ساتھ جعلی ویڈیوز اور ڈیپ فیک مواد کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔
اہم نتیجہ
یہ انکشاف اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی جہاں ترقی کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے، وہیں اس کا غلط استعمال نفرت، گمراہ کن معلومات اور مالی فائدے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
معرکہ حق میں ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا: وزیراعظم










