پہلی تراویح پر ایمان کا عظیم منظر
غزہ / مقبوضہ مشرقی یروشلم: رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی دسیوں ہزار مسلمان پہلی تراویح کی ادائیگی کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچ گئے۔ اسرائیلی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود عاشقانِ رسولؐ کا جذبہ کم نہ ہوا اور قبلۂ اول کے احاطے عبادت گزاروں سے بھر گئے۔
گلیوں سے گزر کر قبلۂ اول تک
چاند کے اعلان کے ساتھ ہی نمازی گلیوں، دروازوں اور چوکیوں سے گزرتے ہوئے ایک ہی جذبے کے ساتھ مسجدِ اقصیٰ کی طرف بڑھے۔ قبلی مسجد کے اندر صفیں در صفیں بندھ گئیں جبکہ سنہری گنبد والی صخرہ کی گنبد کے اطراف بھی عبادت گزاروں کا سمندر اُمڈ آیا۔
آنسو، دعائیں اور استقامت
عشاء اور تراویح کی نماز کی امامت امام و خطیب شیخ یوسف ابو سنینہ نے کروائی۔ ہر سجدہ صبر، استقامت اور امید کی داستان سنا رہا تھا۔ اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، مگر غزہ پٹی کے زخم ابھی تازہ ہیں اور مغربی کنارہ میں بڑھتی کارروائیوں نے فضا کو سوگوار بنا رکھا ہے۔ ایسے حالات میں پہلی تراویح آنسوؤں اور امیدوں کا حسین امتزاج بن گئی۔
پابندیاں ایمان کے آگے بے اثر
یروشلم گورنریٹ کی جانب سے پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ رمضان کی تیاریوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، مگر پابندیاں ایمان کے سیلاب کو نہ روک سکیں۔ بزرگوں کی دعائیں، بچوں کی معصوم آنکھیں اور نوجوانوں کا عزم اس بات کا ثبوت بن گئے کہ مسجدِ اقصیٰ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک زندہ عقیدہ ہے۔
نتیجہ
پہلی تراویح کی رات نے ثابت کر دیا کہ جب دلوں میں یقین کی شمع روشن ہو تو رکاوٹیں دیوار نہیں بن سکتیں۔ قبلۂ اول کی فضا میں گونجتی آمین کی صدائیں دنیا کو یہ پیغام دیتی رہیں کہ ایمان کو زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں
سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا حکم، گیس بھی بلاتعطل جاری










