پاکستان کا لبنان میں جنگ روکنے کے لیے فوری اقدامات
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے لبنان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
لبنان کی صورتحال پر پاکستان کی تشویش
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جاری بحران ایک سنگین انسانی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود زمینی حقائق میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔
شہری آبادی کو درپیش مشکلات
پاکستان نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ جاری فوجی کارروائیوں کے باعث عام شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جبکہ خوراک، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر تنقید
سفیر عاصم افتخار احمد نے طبی عملے، امدادی کارکنوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے۔
ثقافتی ورثے کو نقصان پر افسوس
پاکستانی مندوب نے لبنان کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کو پہنچنے والے نقصان پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف مقامی آبادی بلکہ خطے کے ثقافتی تشخص کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
لبنان کی خودمختاری کی حمایت
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ پاکستان ہر اس کوشش کا ساتھ دے گا جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کا قیام ہو۔
عالمی برادری سے عملی اقدامات کی اپیل
اجلاس کے اختتام پر پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے مؤثر عملی اقدامات کرے۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد کو بھی ناگزیر قرار دیا۔
مزید پڑھیں
گلگت بلتستان انتخابات، کیا نواز شریف فعال سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟










