سعودی عرب نے اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد یورپ کے لیے خام تیل کی کچھ ترسیلات معطل کردی ہیں۔ حملے کے بعد سعودی عرب نے 11 ستمبر کو پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کیا تھا، جبکہ یورپی خریداروں کو ستمبر میں شیڈول بعض خام تیل کی کھیپ منسوخ کیے جانے سے آگاہ کیا گیا۔
پائپ لائن پر ڈرون حملہ
سعودی حکام کے مطابق ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو متعدد ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور پائپ لائن کو نقصان پہنچا۔ سعودی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ڈرونز عراق سے لانچ کیے گئے تھے۔
یورپ کیلئے تیل کی کچھ کھیپ منسوخ
حملے کے بعد سعودی عرب نے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ معطل کردی۔ تجارتی ذرائع کے مطابق یورپی صارفین کو بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں لوڈ ہونے والی خام تیل کی کچھ کھیپیں منسوخ کردی جائیں گی۔
یورپی خریدار متبادل تلاش کرنے لگے
سعودی تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد یورپی خریداروں نے متبادل ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ پولینڈ کی آئل کمپنی اورلین نے شمالی سمندر سمیت دیگر علاقوں سے خام تیل کی خریداری کی طرف توجہ دی ہے۔
عالمی تیل مارکیٹ پر اثر
سعودی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جبکہ یورپی فزیکل مارکیٹ میں بعض کارگو کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ رہیں۔
پائپ لائن کتنی اہم ہے؟
تقریباً 1200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقے سے خام تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس راستے کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جاسکتا ہے، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔
بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟
پائپ لائن کی بحالی کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آئے ہیں۔ امریکی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ تیل کی ترسیل چند دنوں میں بحال ہوسکتی ہے، جبکہ بعض ذرائع نے مرمت میں کئی ہفتے لگنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
سعودی عرب متبادل راستہ استعمال کرسکتا ہے
تجارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب بحیرہ احمر کے راستے میں رکاوٹ کے اثرات کم کرنے کیلئے آبنائے ہرمز کے ذریعے مزید تیل برآمد کرنے کے امکانات دیکھ رہا ہے۔ تاہم اس راستے کی صورتحال بھی موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث حساس ہے۔
یورپ کی تیل سپلائی پر نظر
سعودی عرب کی جانب سے کچھ یورپی کھیپیں منسوخ کیے جانے کے بعد یورپی ممالک متبادل سپلائی ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم اس وقت مکمل طور پر یہ واضح نہیں کہ سپلائی میں رکاوٹ کتنی مدت تک جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں
مریم نواز کا بیان اور زمینی حقائق، اصل صورتحال کیا ہے؟










