ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان پابندیوں کا اصل مقصد ایران کو معاشی اور اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔ ایرانی قیادت مسلسل امریکی دباؤ اور پابندیوں کو سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔
امریکی پابندیوں پر شدید ردعمل
صدر مسعود پزشکیان کے مطابق امریکا ایران پر پابندیاں عائد کرکے ملک کی معیشت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق ان اقدامات کا اثر صرف حکومت تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہری بھی معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
ایران کو اندر سے کمزور کرنے کا الزام
ایرانی صدر نے الزام لگایا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ایران کو براہ راست جنگ کے بجائے معاشی دباؤ کے ذریعے اندر سے کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی پالیسی ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسے اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش ہے۔
معاشی مشکلات میں اضافہ
ایران پر مختلف ادوار میں عائد امریکی پابندیوں نے تیل کی تجارت، مالیاتی لین دین اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں عام لوگوں کیلئے مہنگائی، روزگار اور معاشی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکا کا دباؤ جاری
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ عرصے میں مزید نمایاں ہوئی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی مسلسل دباؤ برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کے جوہری ادارے سے متعلق معاملات پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ایران کا سخت مؤقف
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے تہران کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ایران نے کئی مرتبہ امریکی اقدامات کو سیاسی دباؤ قرار دیتے ہوئے ان کی مخالفت کی ہے۔
خطے میں کشیدگی برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر پورے مشرق وسطیٰ پر پڑ رہا ہے۔ خطے میں فوجی سرگرمیوں اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
پابندیوں پر عالمی توجہ
ایران پر عائد پابندیوں اور ان کے معاشی اثرات کا معاملہ عالمی سطح پر بھی زیر بحث ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ معاشی پابندیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ کشیدگی میں مزید اضافہ کرتی ہیں، جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کو اپنی پالیسی کا بنیادی جواز قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیں
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر مزید توجہ رہنے کا امکان ہے
مزید پڑھیں
اسلام آباد کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کی ڈیجیٹل لوٹ مار اور منی لانڈرنگ کا انکشاف











