آبنائے ہرمز نہ کھولی تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں ہوگا: ٹرمپ کی دھمکی اسرائیلی صدر کمزور، نیتن یاہو نہ ہوتے تو اسرائیل کا وجود نہ ہوتا: ٹرمپ افغان طالبان ڈپٹی ترجمان کا بیان ہولناک کارروائیاں چھپانے کی کوشش: وزارتِ اطلاعات دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ، ٹینکر میں آگ، پروازیں عارضی معطل
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

سہیل آفریدی کی نامزدگی پر اختلاف، پی ٹی آئی گروپس آمنے سامنے

PTI leaders divided over Sohail Afridi’s nomination for Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister

سہیل آفریدی کی نامزدگی پر اختلاف

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کی نامزدگی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنما شیر افضل مروت کے مطابق سہیل آفریدی کی نامزدگی پر کئی مضبوط گروپس مطمئن نہیں اور وہ اس فیصلے کو تبدیل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شیر افضل مروت کے انکشافات

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا۔ کہ نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر بغیر سوچے سمجھے عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا۔ کہ علی امین گنڈا پور کی رائے بانی پی ٹی آئی کی خواہشات سے مختلف تھی۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر اختلافات پیدا ہوئے۔

پارٹی اختلافات اور اندرونی کشیدگی

شیر افضل مروت نے مزید کہا۔ کہ علی امین گنڈا پور پر بشریٰ بی بی کے جیل جانے کا الزام بھی لگایا گیا۔ ان کے مطابق، علی امین کے جنید اکبر، اسد قیصر اور شہرام ترکئی کے ساتھ بھی اختلافات تھے۔ جو بعد میں علیمہ خان تک جا پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین نے خود بانی پی ٹی آئی کو بتایا۔ کہ اہلِ خانہ کی مداخلت پارٹی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

سیاسی منظرنامہ اور آئندہ لائحہ عمل

شیر افضل مروت کے مطابق، بانی پی ٹی آئی نے شاید یہی سوچ کر فیصلہ کیا کہ اب علی امین کی ضرورت نہیں رہی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات پارٹی کی آئندہ حکمتِ عملی اور خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے عمل پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
اقوام متحدہ میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف، بھارت کا سیکولر چہرہ بے نقاب

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین