عوام کے لیے خوشخبری: 25 کلو واٹ تک سولر صارفین کے لیے لائسنس کی شرط ختم پشاور زلمی کی فائنل تک رسائی میری وجہ سے نہیں، ٹیم کی مشترکہ محنت ہے: بابر اعظم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اے آئی ٹیکنالوجی والے کھلونے بچوں کیلئے کتنے محفوظ؟

AI educational toys for children

بچوں کے لیےمحفوظ

آج کل بچوں کے لیے مصنوعی ذہانت  والے کھلونے، جیسے بات کرنے والے روبوٹ، اسمارٹ گڑیا اور انٹرنیٹ سے جڑے تعلیمی کھلونے، کافی مقبول ہو گئے ہیں۔ یہ کھلونے سیکھنے اور تفریح کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔ مگر ماہرین کے مطابق یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ والدین کو استعمال میں محتاط رہنا چاہیے۔

ممکنہ فوائد

کچھ مصنوعی ذہانت والے کھلونے بچوں کو زبان، ریاضی یا کہانیاں سکھاتے ہیں۔ جس سے دماغی صلاحیتیں بہتر ہوتی ہیں۔ بچے سوال پوچھ سکتے ہیں اور کھلونا جواب دیتا ہے۔ جس سے کھیل دلچسپ اور تعلیمی لحاظ سے مؤثر بنتا ہے۔ بعض کھلونے کہانیاں بنانے یا مسائل حل کرنے کی سرگرمیوں میں مدد دیتے ہیں، جس سے بچے کی تخلیقی سوچ بڑھتی ہے۔

اہم خطرات

بہت سے مصنوعی ذہانت والے کھلونوں میں مائیکروفون، کیمرہ یا انٹرنیٹ کنیکشن ہوتا ہے۔ جو بچوں کی آواز اور رویے کا ڈیٹا جمع کر سکتا ہے۔ اگر یہ ڈیٹا محفوظ نہ ہو تو ہیکنگ یا غلط استعمال کا خطرہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 27 فیصد مصنوعی ذہانت کھلونے بچوں کے لیے نامناسب جوابات دے سکتے ہیں۔ جیسے خطرناک یا غیر مناسب موضوعات۔ کچھ کھلونے جذباتی وابستگی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ جس سے بچے انہیں دوست سمجھنے لگتے ہیں اور حقیقی سماجی مہارتیں متاثر ہو سکتی ہیں

والدین کے لیے مشورے

مصنوعی ذہانت کھلونوں کا استعمال محدود اور نگرانی میں کریں۔ بچوں کو یہ سمجھائیں کہ کھلونے صرف کھیل کے لیے ہیں۔ دوست نہیں۔ پرائیویسی اور سیکیورٹی سیٹنگز کو فعال رکھیں اور اپ ڈیٹس کرتے رہیں۔ کھلونوں کے جوابات اور سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ نامناسب مواد کا فوری پتہ چل سکے۔

مزید پڑھیں
دل کے مریضوں کےلیے چکن اور مٹن میں سے کون سا گوشت بہتر؟ ماہرین غذائیت کا مشورہ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین