اسپین میں کی گئی تحقیق
اسپین کے نیشنل کینسر ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے۔ کہ تین مختلف علاجوں پر مشتمل مشترکہ تھراپی کے ذریعے چوہوں میں لبلبے (پینکریاز) کے کینسر کے ٹیومر ختم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ نتائج معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔
لبلبے کا کینسر اور موجودہ مشکلات
لبلبے کا کینسر دنیا کے خطرناک ترین کینسروں میں شمار ہوتا ہے۔ جس میں مریضوں کی بقا کی شرح انتہائی کم ہوتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ علاج کے خلاف جلد مزاحمت پیدا ہونا ہے۔ محققین کے مطابق نئی دریافت مستقبل میں ایسے مشترکہ علاج تیار کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔ جو پینکریاٹک ڈکٹل ایڈینوکارسینوما کے مریضوں کی زندگی بڑھانے میں مددگار ہوں۔
تحقیق کا طریقہ کار
سائنس دانوں نے کینسر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والے کے آر اے ایس نامی آنکوجین کے مالیکیولر راستے کے تین حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا۔ اس عمل سے تین مختلف جانوروں کے ماڈلز میں ٹیومر میں طویل عرصے تک کمی دیکھی گئی۔
تھراپی میں شامل اقدامات
ایک تجرباتی کے آر اے ایس روکنے والی دوا پھیپھڑوں کے کینسر کے لیے پہلے سے منظور شدہ دوا، ایک پروٹین کو ختم کرنے والی دوا نتیجہ: بغیر کسی بڑے ضمنی اثر کے ٹیومر ختم ہو گئے۔
مستقبل کی امیدیں اور احتیاط
محققین کا کہنا ہے۔ کہ فی الحال انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز شروع کرنا ممکن نہیں۔ کیونکہ مریضوں کے لیے اس امتزاج کو محفوظ اور مؤثر بنانے کا عمل پیچیدہ ہے۔ تاہم، یہ تحقیق مستقبل میں ہونے والے کلینیکل ٹرائلز کی سمت متعین کرے گی اور نئے علاجوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اعداد و شمار
اسپین میں ہر سال لبلبے کے کینسر کے دس ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ جبکہ پانچ سال تک زندہ رہنے کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے۔
مزید پڑھیں
سردی میں معدے کی پریشانی کیوں بڑھ جاتی ہے؟وجوہات اور آزمودہ دیسی حل











